• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھا نوجوانوں کے سڑکوں پر اترنے کے بعد سرکاری وفد جرنگے سے ملنے پہنچا

Updated: September 03, 2026, 11:52 AM IST | Agency | Jalna

مراٹھا کارکن احتجاج پر قائم۔ مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے کی طبیعت بدھ کے روز زیادہ بگڑگئی جس کی وجہ مراٹھا سماج میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی اور مراٹھا نوجوان سڑکوں پر اتر آئے۔ انہوں نے بیڑ اور جالنہ کے مختلف مقامات پر آگ زنی کی اور راستہ روکو آندولن کرنے کی کوشش کی۔

Manoj Jirga. Picture: INN
منوج جرنگے۔ تصویر: آئی این این

مراٹھا سماجی کارکن منوج جرنگے کی طبیعت بدھ کے روز زیادہ بگڑگئی جس کی وجہ مراٹھا سماج میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی اور مراٹھا نوجوان سڑکوں پر اتر آئے۔ انہوں نے بیڑ اور جالنہ کے مختلف مقامات پر آگ زنی کی اور راستہ روکو آندولن کرنے کی کوشش کی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے فوری طور پر رکن اسمبلی پرساد لاڈ کو منوج جرنگے سے ملنے بھیجا اور تمام مطالبات کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروائی لیکن منوج جرنگے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے ممبئی جا کر حکومت کو مزہ چکھانے کا اعلان کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بار کونسل کے صدر منن مشرا کو سپریم کورٹ سے پھر جھٹکا

یاد رہے کہ منوج جرنگے کی طبیعت پیر کے روز ہی سے خراب ہے اور ان کا شوگر مسلسل گر رہا ہے لیکن حکومت نے بدھ کی صبح تک ان کی کوئی خبر نہیں لی تھی۔ حالانکہ منگل کی رات کو جالنہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جرنگے سے ملنے پہنچے تھے اس کے بعد ضلع کلکٹر نے بھی ان سے ملاقات کی اور ان سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی گزارش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ یاد رہے کہ جرنگے نے ان کا  علاج کرنے آئے سرکاری ڈاکٹروں کو بھی واپس بھیج دیا تھا۔ بدھ کے روز جب ان کی طبیعت نازک ہو گئی تو مراتھا نوجوان سڑکوں پر اتر آئے۔ 

نوجوانوں نے ’ ایک مراٹھا لاکھ مراٹھا‘ کے نعرے بلند کئے اور ٹائر جلا کر سڑکوں پر پھینک دیئے تاکہ آنے جانے والی گاڑیوں کا راستہ بند ہو جائے۔  انہوں نے حکومت کے خلاف بھی جم کر نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ منوج جرنگے کی بھوک ہڑتال کو ۵؍ روز ہو رہے ہیں لیکن اب تک حکومت کی جانب سے کوئی بھی ان سے ملنے نہیں آیا۔پولیس نے اپنے کارندوں کو منوج جرنگے کے پاس دوڑایا کہ وہ ان نوجوانوں کو احتجاج سے باز رہنے کی تلقین کریں۔ ادھر حکومت بھی ہوش میں آئی اور اس نے فوری طور پر بی جے پی رکن اسمبلی پرساد لاڈ کو منوج جرنگے کے پاس بھیجا۔ انہوں نے منوج جرنگے سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی گزارش کی لیکن جرنگے نے صاف انکار کر دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یہودی آباد کاروں کے تشدد کے سبب دنیا ہمیں غنڈہ ومجرم سمجھنے پر مجبور: پولیس چیف

کافی منتوں کے بعد جرنگے نے پانی پیا مگر بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا کی ضد پر قائم رہے۔ پرساد لاڈ نے انہیں بتایا کہ حکومت کل ہی ( جمعرات) سے کنبی سرٹیفکیٹ کی تقسیم کا کام شروع کرنے جا رہی ہے لیکن جرنگے نے کہا پہلے سرٹیفکیٹ کی تقسیم کا کام شروع ہونے دیجئے اس کے بعد میں بھوک ہڑتال ختم کروں گا۔ انہوں نے میڈیاکے سامنے باقاعدہ اعلان کیا کہ اب میں ممبئی جا کر ہی حکومت کو مزہ چکھائوں گا۔ پرساد لاڈ نے ان سے منت کی ’’ دادا آپ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیجئے۔ میں پہلے بھی آپ سے کہہ رہا تھا کہ آپ بھوک ہڑتال مت کیجئے ۔ آپ کے مسائل حل کرنے کیلئے بیٹھے ہیں۔ کل رات سے مجھے بھی نیند نہیں آئی ہے۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ خبر لکھے جانے تک پرساد لاڈ منوج جرنگے کی  بھوک ہڑتال ختم نہیں کرو ا سکے تھے اور منوج جرنگے اپنے اس اعلان پر قائم ہیں کہ وہ ۱۲؍ ستمبر کو ممبئی جائیں گے اور وہاں بھوک ہڑتال کریں گے۔ 

یاد رہے کہ منوج جرنگے کی طبیعت بگڑنے کی خبر پھیلتے ہی بدھ کے روز انتراولی سراتی میں بڑی تعداد میں مراٹھا سماج کے لوگ جمع ہو گئے تھے۔ جبکہ نوجوانوں نے جارحانہ رخ اختیار کر لیا تھا لیکن پولیس کی مداخلت کے سبب کئی جگہ پر احتجاج روک دیا گیا۔ جرنے کا مطالبہ ہے کہ جن ۵۸؍ لاکھ فرادکے نام حیدر آباد گزٹ میں ملے ہیں انہیں کنبی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK