Updated: October 17, 2026, 7:07 PM IST
| Washington
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے زمین کے مدار میں ۱۰؍ لاکھ تک سیٹیلائٹس پر مشتمل نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد خلا میں مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ مراکز قائم کرنا ہے۔ اس تجویز نے خلائی وسائل پر اختیار، نجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور عالمی ضابطوں کی حدود سے متعلق سوالات کو نئی اہمیت دے دی ہے۔
خلا میں سیٹیلائٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد اب صرف تکنیکی ترقی یا تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کا معاملہ نہیں رہی، بلکہ یہ عالمی سطح پر تجارتی طاقت، سائنسی تحقیق اور خلائی وسائل کے انتظام سے جڑا ایک اہم سوال بن چکی ہے۔ اسپیس ایکس کی جانب سے ۱۰؍ لاکھ سیٹیلائٹس تک پر مشتمل نیٹ ورک کی تجویز اس بحث کا نمایاں حصہ ہے۔ کمپنی اس نظام کو مصنوعی ذہانت کے لیے خلا میں کمپیوٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے منصوبے سے جوڑ رہی ہے، جس کے ذریعے مستقبل میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا کی پروسیسنگ کی جاسکے گی۔ یہ مجوزہ نیٹ ورک عام مواصلاتی سیٹیلائٹس سے مختلف مقصد بھی رکھتا ہے۔ روایتی سیٹیلائٹس انٹرنیٹ، ٹیلی کمیونیکیشن، موسم کی پیش گوئی اور زمین کے مشاہدے جیسی خدمات فراہم کرتے ہیں، جبکہ خلائی کمپیوٹنگ کے تصور میں سیٹیلائٹس پر ایسے آلات نصب کیے جاسکتے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے نظام چلانے اور ڈیٹا پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طرح زمین پر بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار بجلی، زمین اور بعض صورتوں میں ٹھنڈک کے وسائل پر دباؤ کم کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اتنے بڑے نظام کو خلا میں قائم کرنے کی تکنیکی اور تجارتی افادیت ابھی ثابت ہونا باقی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نوجوانوں کیلئے ملازمت کا حصول مشکل، کالج ڈگری بھی روزگار کی ضامن نہیں
زمین کے مدار میں سیٹیلائٹس کی موجودہ تعداد اس تبدیلی کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔ ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق، تقریباً ۱۷۱۸۳؍ فعال سیٹیلائٹس زمین کے گرد گردش کر رہے تھے، جبکہ ناکارہ سیٹیلائٹس کو شامل کرنے پر یہ تعداد ۲۰؍ ہزار سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان میں اسپیس ایکس کے اسٹارلنک نیٹ ورک کا حصہ سب سے بڑا ہے، جس کے ۱۱؍ ہزار سے زیادہ فعال سیٹیلائٹس مدار میں موجود ہیں۔ اس طرح ایک ہی کمپنی دنیا کے فعال سیٹیلائٹس کے تقریباً ۶۵؍ فیصد حصے کو چلا رہی ہے۔ اعدادوشمار میں فرق ممکن ہے، کیونکہ مختلف ادارے فعال، ناکارہ اور حال ہی میں لانچ کیے گئے سیٹیلائٹس کو الگ الگ طریقوں سے شمار کرتے ہیں۔ اس ارتکاز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سیٹیلائٹ نیٹ ورک چلانے والی چند بڑی کمپنیوں کا عالمی مواصلاتی نظام پر اثر بڑھ رہا ہے۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵ء میں ایک ہی آپریٹر، اسٹارلنک، دنیا کے فعال سیٹیلائٹس میں تقریباً ۶۰؍ فیصد حصے کا حامل تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مختلف کمپنیوں کے مستقبل کے منصوبوں میں ۲۰؍ لاکھ سے زیادہ ممکنہ سیٹیلائٹس شامل ہیں۔ ان میں سیٹیلائٹ انٹرنیٹ، موبائل فون سے براہِ راست رابطے اور خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ تاہم، ان میں سے تمام منصوبے منظور شدہ یا عملی طور پر قابلِ عمل نہیں ہیں۔
مدار میں اس غیر معمولی اضافے کا سب سے نمایاں خطرہ خلائی ملبے اور سیٹیلائٹس کے باہمی تصادم سے متعلق ہے۔ خلا میں موجود کسی سیٹیلائٹ یا راکٹ کے ٹکڑے سے ٹکراؤ کی صورت میں مزید ملبہ پیدا ہوسکتا ہے، جو دوسرے فعال سیٹیلائٹس کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اگر ایسے تصادم بار بار ہوتے رہیں تو ایک سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جس میں ہر ٹکراؤ مزید ٹکڑے پیدا کرے۔ اس صورت حال کو خلائی تحقیق میں ’’کیسلر سنڈروم‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے بعض مداروں میں سیٹیلائٹس کی محفوظ نقل و حرکت اور مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ فلکیاتی تحقیق بھی اس صورت حال سے متاثر ہوسکتی ہے۔ زمین کے گرد گردش کرنے والے روشن سیٹیلائٹس دوربینوں سے حاصل ہونے والی تصاویر میں لکیریں پیدا کرسکتے ہیں اور رات کے آسمان کے مشاہدے میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ اگر ہزاروں کے بجائے لاکھوں سیٹیلائٹس مدار میں آجائیں تو اس مسئلے کی شدت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، ناکارہ سیٹیلائٹس کو مدار سے ہٹانا اور ان کے زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہونے کے اثرات کو قابو میں رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ان خدشات کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مجوزہ سیٹیلائٹ لازماً نقصان پہنچائے گا، بلکہ یہ کہ بڑے نیٹ ورکس کے مجموعی اثرات کا محتاط جائزہ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹیسلا نے طویل انتظار کے بعد نئی نسل کی روڈسٹر اسپورٹس الیکٹرک کار پیش کردی
خلا پر اختیار کے معاملے میں بین الاقوامی قانون ایک بنیادی اصول فراہم کرتا ہے۔ ۱۹۶۷ء کا آؤٹر اسپیس ٹریٹی کسی ملک کو خلا یا کسی اجرامِ فلکی پر خودمختاری کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کے تحت خلائی سرگرمیوں کو تمام ممالک کے مفاد میں انجام دینے کا اصول تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ نجی کمپنیاں خلا میں کاروبار نہیں کرسکتیں۔ ممالک اپنی کمپنیوں کی خلائی سرگرمیوں کی اجازت، نگرانی اور متعلقہ ذمہ داریوں کے لیے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اس لیے اسپیس ایکس خلا کی مالک نہیں بن سکتی، لیکن اس کا بڑا نیٹ ورک مواصلات اور ڈیٹا کی خدمات میں اسے نمایاں تجارتی طاقت دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) سیٹیلائٹ مواصلات کے لیے ریڈیو فریکوئنسی اور متعلقہ مداری وسائل کے استعمال میں عالمی رابطہ کاری کا اہم ادارہ ہے۔ اس کا مقصد مختلف سیٹیلائٹ نظاموں کے درمیان نقصان دہ مداخلت کو روکنا اور دستیاب وسائل کے منظم استعمال میں مدد دینا ہے۔ تاہم، سیٹیلائٹس کے لیے قومی اجازت نامے، لانچ کی منظوری اور خلائی ملبے سے متعلق متعدد ذمہ داریاں مختلف قومی اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں۔ اسی لیے لاکھوں سیٹیلائٹس کے کسی منصوبے کو منظم کرنے کے لیے صرف ایک عالمی ادارے کے فیصلے کے بجائے بین الاقوامی تعاون اور قومی ضابطوں دونوں کی ضرورت ہوگی۔