Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ دبائو بڑھانے کیلئے ایران کی خستہ حالی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے

Updated: August 01, 2026, 10:54 AM IST | Washington

وہائٹ ہائوس کا خیال ہے کہ ایران معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے،اگراس پر مزید پابندیاں لگائی جائیں تو وہ مذاکرات پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

A scene of destruction in Iran from the US attack. Photo: INN
امریکی حملے سے ایران میں تباہی کا ایک منظر ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کو کمزور کرنے کیلئے معاشی پابندیاں فوجی حملوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، اگرچہ حالیہ امریکی فضائی کارروائیوں نے مالی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ایکسِیوس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی معاشی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور سخت اقتصادی پابندیاں، بحری ناکہ بندی ، دبائو کے ایسے کے ذرائع ہیں، جو بالآخر تہران کو مذاکرات کی میز پر رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایرانی قیادت چاہتی ہے کہ ان کے ملک پر ہونے والی بمباری رک جائے، لیکن اسے اس سے بھی زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق تہران کی اولین ترجیح معاشی دباؤ میں کمی، منجمد اثاثوں کی رہائی اور امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ کے ساتھ جھڑپ میں ۲۰؍ ہزار سے زائد کمبوڈیائی بے گھر: اقوام متحدہ

شدید ہوتا معاشی بحران

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ امریکی انٹیلی جنس کے تخمینوں اور دستیاب عوامی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا معاشی بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ان اشاروں میں ایندھن کی قلت بھی شامل ہے، حالانکہ ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مالی دباؤ نے ایران کی اپنے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کی صلاحیت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹ میں ایسی شکایات سامنے آئی ہیں کہ ایران سے وابستہ جنگجوؤں کو ادائیگیاں کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔عہدیدار نے بینکاری کے شعبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ، بینکوں سے بڑے پیمانے پر رقوم نکالے جانے کے خدشات، پٹرول کی مسلسل قلت اور نقدی کی کمی کا بھی ذکر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایرانی عوام امریکی محکمۂ دفاع کے مقابلے میں امریکی محکمۂ خزانہ سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جے شنکر نے ایران سے بحری جہازوں پرحملوں سے گریزکرنے کو کہا، گہری تشویش کا اظہار

یاد رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکہ کا  دورہ کیا اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی ڈونالڈ ٹرمپ نے اسی بات پر زور دیا کہ ایران کو سفارتی اقدامات کے ذریعے جھکنے پر مجبور کیا جائے۔ حالانکہ نیتن یاہو خود جنگ کے حق میں ہیں اور اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ ایران کے دفاعی ٹھکانوں پر حملے کئے جائیں لیکن انہوں نے خود اس بات کو تسلیم کیا کہ ایران نے اب تک امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جم کر مقابلہ کیا ہے اور بعض اوقات مضبوط بھی ثابت ہوا ہے۔ ایسی صورت میں ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ موقف اور بھی درست معلوم ہونےلگا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران پر مزید کیا پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK