Updated: May 27, 2026, 5:26 PM IST
| Srinagar
میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ جموں کشمیر انتظامیہ نے مسلسل آٹھویں برس بھی جامع مسجد سری نگر میں عیدالاضحی کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ میر واعظ نے اس اقدام کو کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی، وقار اور شناخت پر ’’منظم حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔
جموں کشمیر میں عیدالاضحی کے موقع پر ایک بار پھر مذہبی آزادی اور پابندیوں کا معاملہ موضوعِ بحث بن گیا ہے، جہاں میر واعظ عمر فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے مسلسل آٹھویں سال جامع مسجد سری نگر میں عید کی اجتماعی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ میر واعظ، جو کشمیر کے چیف عالم دین اور جامع مسجد کے روایتی خطیب ہیں، نے الزام لگایا کہ انہیں بدھ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا تاکہ وہ عید کی نماز کی امامت نہ کر سکیں۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں میر واعظ نے کہا کہ کشمیر کے مسلمانوں کو ایک بار پھر جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’عید کے موقع پر کشمیری عوام کو رکاوٹوں، پابندیوں، بند دروازوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ طرزِ عمل گورننس نہیں بلکہ ہماری مذہبی شناخت، وقار اور بنیادی حقوق پر ایک منظم حملہ ہے، جو ہمیں شدید اذیت پہنچاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لکھنؤ کی تاریخی کسمنڈی مسجد و مقبرہ پر پاسی سماج کا دعویٰ، بھگوا عناصرکی شر انگیزی
عیدالاضحی اسلام کے اہم ترین مذہبی تہواروں میں شمار ہوتی ہے اور حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کے جذبے کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ کشمیر میں تاریخی طور پر جامع مسجد اور عیدگاہ میں ہزاروں افراد نمازِ عید ادا کرتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے مختلف مواقع پر وہاں اجتماعی نمازوں پر پابندی عائد کی جاتی رہی ہے۔ میر واعظ نے اپنے بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی نئی نسل عیدگاہ اور جامع مسجد کی روحانی روایت سے دور ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کشمیر میں بچے عید کی وہ روحانی فضا دیکھے بغیر بڑے ہو رہے ہیں جو صدیوں سے ہماری اجتماعی شناخت کا حصہ رہی ہے۔ ایک پوری نسل ان روایات اور یادوں سے محروم کی جا رہی ہے جنہوں نے کشمیری معاشرے کی تشکیل کی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی عقیدے کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ میر واعظ نے کہا کہ ’’زمین کی کوئی طاقت اس روحانی تعلق کو ختم نہیں کر سکتی جو کشمیری عوام جامع مسجد، عیدگاہ اور اپنے مذہبی اداروں کے ساتھ رکھتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مولانا عبدالرحمٰن کٹکی ۱۰؍ سال بعدبری، القاعدہ سے تعلق کا الزام تھا
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب میر واعظ نے اپنی نظر بندی یا مذہبی سرگرمیوں پر پابندی کا الزام عائد کیا ہو۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہوں نے متعدد مرتبہ دعویٰ کیا کہ انہیں اہم مذہبی یا سیاسی مواقع پر گھر میں محدود رکھا گیا۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں بھی انہوں نے الزام لگایا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران انہیں گھر میں نظر بند رکھا گیا اور جامع مسجد سری نگر میں نمازِ جمعہ اور تراویح کی امامت سے روکا گیا۔اسی طرح ستمبر ۲۰۲۵ء میں حضرت بل درگاہ میں اشوک نشان والی ایک تختی کو نقصان پہنچنے کے واقعے کے بعد بھی انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں گھر میں محدود رکھا گیا تاکہ وہ اجتماعی نماز کی قیادت نہ کر سکیں۔
جولائی ۲۰۲۵ء میں بھی میر واعظ نے کہا تھا کہ انہیں ’’یومِ شہدائے کشمیر‘‘ کا ذکر اپنے خطبے میں شامل کرنے سے روکنے کے لیے نظر بند کیا گیا۔ جموں کشمیر انتظامیہ کی جانب سے عید نماز پر پابندی یا میر واعظ کی مبینہ نظر بندی کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم وادی میں مذہبی اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے تناظر میں مسلسل زیرِ بحث رہا ہے۔