برینٹ کروڈ آئل فی بیرل ۸۶؍ ڈالر تک پہنچا مگر امریکی ناکہ بندی نہ ہٹنے پر آبنائے کو پھر بند کرنے کے تہران کے اعلان سے قیمتوں میں اچھال کا اندیشہ۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 12:22 PM IST | Mumbai
برینٹ کروڈ آئل فی بیرل ۸۶؍ ڈالر تک پہنچا مگر امریکی ناکہ بندی نہ ہٹنے پر آبنائے کو پھر بند کرنے کے تہران کے اعلان سے قیمتوں میں اچھال کا اندیشہ۔
جمعہ کو ایران کی جانب سے آبنائےہرمز کو تجارتی جہازوں کیلئے پوری طرح کھول دینے کے اعلان کے بعد خام تیل۱۳؍ فیصد سستا ہو گیا ہے۔۱۷؍ اپریل کو قیمت تقریباً۱۳؍ ڈالر گر کر۸۶؍ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ایک دن پہلے خام تیل ۹۹ء۳۹؍ڈالر فی بیرل فروخت ہورہاتھا۔۲۸؍ فروری کو جنگ شروع ہونے سے پہلے خام تیل۷۳؍ ڈالر فی بیرل تھا۔ جنگ کے دوران۹؍ مارچ کو قیمت ۱۲۰؍ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔
امریکہ کا ڈاؤ جونز تقریباً ایک ہزار پوائنٹس بڑھ گیا
خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے عالمی مارکیٹ میں بھی بڑی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ امریکہ کا ڈاؤ جونز تقریباً ایک ہزار پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ۴۹؍ہزار ۵۰۰؍ کی سطح پر کاروبار کر رہا ہے۔ ایس اینڈ پی۵۰۰؍ میں۱ء۱۲ء فیصد اور نیسڈیک انڈیکس میں۱ء۰۴؍ فیصد کا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں پیٹرول سے چلنے والی بائیکس اور اسکوٹر بند ہوں گے!
ٹرمپ کی ہٹ دھرمی پر آبنائے ہرمز پھر بند
بہرحال سنیچر کو ایران اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گیا اور خبردار کیا کہ جب تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی وہ بھی اس اہم آبی راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا جب ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی اس وقت تک ’’مکمل طور پر برقرار‘‘ رہے گی جب تک تہران امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر سمجھوتہ سمیت کسی معاہدے تک نہیں پہنچتا۔
قیمتوں میں پھر اضافے کا اندیشہ
دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اور مزید پابندیاں پہلے سے محدود رسد کو مزید متاثر کریں گی، جس سے قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔ کشیدگی کے دوران پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ۲۲؍اپریل کی جنگ بندی کی آخری تاریخ سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بیچ بحری جہازوں کی آمدورفت کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ میری ٹائم انٹیلی جنس کمپنی ونڈورڈ کی تجزیہ کار مشیل ویزے بوک مین نے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’یہاں کافی سرگرمی ہے، اتنی سرگرمی میں نے جنگ کے آغاز کے بعد نہیں دیکھی تھی ۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ’’گزشتہ رات چند جہاز ہی خطرہ مول لے رہے تھے لیکن راتوں رات صورتحال میں تبدیلی نظر آئی ہے۔‘‘ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے محدود تعداد میں تصدیق شدہ جہازوں کو ہی یہاں سے گزرنے کی اجازت دی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بہت کم رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے ایران کا تیل ڈالر کے بجائے یوآن میں خریدا، ادائیگی کا طریقہ کیوں بدلا؟
قیمتیں کم ہونے سے ہندوستان کو کیافائدہ ہوگا؟
ہندوستان تقریباً۸۵؍ فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔اس لئے اس کی قیمتیں کم ہونے پر معیشت کو کئی محاذوں پر راحت ملے گی۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی: خام تیل سستا ہونے پر انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ جیسی کمپنیوں کیلئے قیمتیں بڑھانے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اس سے ٹرانسپورٹ لاگت کم ہوتی ہے اور عام آدمی کے بجٹ پر دباؤ کم پڑتا ہے۔قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ان کمپنیوں کو پیٹرول پر ۱۸؍ روپے اور ڈیزل پر ۳۶؍ روپے فی لیٹر کا خسارہ ہورہاہے۔
مہنگائی پر اثر: ڈیزل کی قیمت نہ بڑھنے سے ٹرانسپورٹ لاگت نہیں بڑھے گی۔ اس سے پھل، سبزیاں، اناج اور دیگر روزمرہ کی اشیائے خور و نوش کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی۔
روپے کو مضبوطی: خام تیل کا بل کم ہونے سے ڈالر کی مانگ کم ہو جاتی ہے، جس سے روپیہ مضبوط ہوتا ہے اور درآمدات سستی ہو جاتی ہیں۔
سبسڈی کا بوجھ کم: خام تیل سستا ہونے سے حکومت کا سبسیڈی خرچ کم ہو جاتا ہے۔ بچی ہوئی رقم حکومت بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں لگا سکتی ہے۔
کارپوریٹ منافع: تیل سستا ہونے سے لاگت کم ہوتی ہے اور منافع بڑھتا ہے، جس سے شیئر بازار پر مثبت اثر پڑتا ہے۔