Updated: May 09, 2026, 10:09 PM IST
| Stockholm
سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ۶؍ مئی کو ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو ایک شخص نے مبینہ طور پر ہراساں کیا اور ان پر اسرائیل مخالف مؤقف کے باعث سخت جملے کسے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ مذکورہ شخص پہلے تھنبرگ سے مخاطب ہوا، پھر جارحانہ انداز میں گالیاں دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ گریٹا نے پورے واقعے کے دوران کوئی زبانی ردعمل نہیں دیا۔
معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ۔ تصویر: ایکس
سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں ۶؍ مئی کو پیش آنے والے ایک واقعے نے سوشل میڈیا اور بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو ایک شخص نے مبینہ طور پر ہراساں کیا۔ وائرل ویڈیو کے مطابق ایک شخص نے سڑک پر چلتے ہوئے پہلے گریٹا تھنبرگ سے بات کی، پھر اچانک جارحانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے انہیں گالیاں دیں اور سخت الفاظ استعمال کیے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تھنبرگ نے پورے واقعے کے دوران خاموشی اختیار کیے رکھی اور کوئی زبانی جواب نہیں دیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گریٹا تھنبرگ فلسطینی عوام کی حمایت اور غزہ جنگ کے خلاف اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر شدید توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران انہوں نے متعدد فلسطین حامی مظاہروں میں شرکت کی، اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی اور غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ گریٹا تھنبرگ حالیہ مہینوں میں گلوبل صمود فلوٹیلا اور دیگر امدادی مہمات سے بھی منسلک رہی ہیں، جن کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف عالمی توجہ مبذول کرانا تھا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے ان کارروائیوں کے دوران اسرائیلی حکام کی جانب سے حراست، بدسلوکی اور سخت حالات کا سامنا کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں ان کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ دورانِ حراست انہیں مناسب خوراک اور پانی تک محدود رسائی دی گئی جبکہ اسرائیلی حکام نے ان الزامات کی تردید کی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پابندی کے سبب مقبوضہ مغربی کنارے میں جلدی بیماری میں اضافہ:اقوام متحدہ
گریٹا تھنبرگ کی فلسطین کیلئے حمایت نے دنیا بھر میں مختلف ردعمل کو جنم دیا ہے۔ حامی حلقے انہیں انسانی حقوق اور عالمی انصاف کی آواز قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین ان پر اسرائیل مخالف سیاسی مہم کا حصہ بننے کا الزام لگاتے ہیں۔ جرمنی، ڈنمارک اور سویڈن سمیت مختلف یورپی ممالک میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے باعث وہ متعدد مرتبہ پولیس حراست میں بھی لی جا چکی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹاک ہوم میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ غزہ جنگ اور فلسطین اسرائیل تنازع نے یورپ کے اندر بھی شدید جذباتی اور سیاسی تقسیم پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور عوامی ردعمل اس کشیدگی کو مزید نمایاں کر رہے ہیں، جہاں ایک طرف فلسطینیوں کے حق میں عالمی یکجہتی بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب اسرائیل کے حامی حلقے ان تحریکوں کو متنازع قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ سیاسی اختلافات کے باوجود عوامی شخصیات یا کارکنان کو ہراساں کرنا، دھمکانا یا نفرت انگیز رویے کا نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ ابھی تک اس واقعے پر سویڈش حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔