غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل گئے مگر حکومت نے ایل آئی سی میںایف ڈی آئی کی حد ۲۰؍فیصد تک ہی برقرار رکھی ہے۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 2:42 PM IST | New Delhi
غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل گئے مگر حکومت نے ایل آئی سی میںایف ڈی آئی کی حد ۲۰؍فیصد تک ہی برقرار رکھی ہے۔
مرکزی حکومت نے ملک کے انشورنس سیکٹر میں ایک بڑی اور دور رس اثرات کی حامل اصلاح کا اعلان کرتے ہوئے۱۰۰؍ فیصدراست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی منظوری دے دی ہے ۔ اس فیصلے کے بعد اب غیر ملکی سرمایہ کار آٹومیٹک روٹ کے تحت ہندوستانی انشورنس کمپنیوں میں مکمل حصص خرید سکیں گے جس سے نہ صرف اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ مسابقت اور خدمات کے معیار میں بھی بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم حکومت نے لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد۲۰؍ فیصد تک ہی برقرار رکھی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ انشورنس سیکٹر میں ہونے والی یہ غیر ملکی سرمایہ کاری بیمہ ایکٹ۱۹۳۸ء کے تحت ہوگی اور اس کیلئے تمام کمپنیوں کو متعلقہ ضابطوں کی مکمل پابندی کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ سرمایہ حاصل کرنے والی کمپنیوں کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی آف انڈیا(آئی آر ڈی ا ےآئی) سے باقاعدہ لائسنس یا منظوری حاصل کریں۔ حکومت نے کارپوریٹ گورننس کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ جس ہندوستانی انشورنس کمپنی میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہوگی، اس کے اعلیٰ عہدوں جیسے چیئرمین، منیجنگ ڈائریکٹر یا چیف ایگزیکٹو آفیسر میں سے کم از کم ایک فرد کاہندوستانی شہری ہونا لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: سونی پلے اسٹیشن نیٹ ورک تصفیہ میں۸۵ء۷؍ ملین ڈالر ادا کرے گا
ایل آئی سی کے حوالے سے حکومت نے الگ فریم ورک قائم رکھا ہے۔ چونکہ ایل آئی سی ایک سرکاری ادارہ ہے اور اس کا ملک کی معیشت اور عوامی اعتماد میں خاص مقام ہے، اس لئے اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی زیادہ سے زیادہ حد۲۰؍ فیصد تک ہی محدود رکھی گئی ہے۔اس میں ہونے والی سرمایہ کاری ایل آئی سی ایکٹ ۱۹۵۶ء اور بیمہ ایکٹ ۱۹۳۸ء کے تحت ہی عمل میں آئے گی۔
اس فیصلے کا دائرہ صرف انشورنس کمپنیوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ حکومت نے انشورنس انٹرمیڈیئریز کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ اب انشورنس بروکرز، ری انشورنس بروکرز، انشورنس کنسلٹنٹ، کارپوریٹ ایجنٹس اور تھرڈ پارٹی ایڈمنسٹریٹر جیسے اداروں میں بھی ۱۰۰؍ فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی ۔ اس کے علاوہ سروئیرز، لاس اسیسَر، مینیجنگ جنرل ایجنٹس اور انشورنس ریپوزٹریز جیسے شعبے بھی اس پالیسی سے مستفید ہوں گے جس سے پورے انشورنس ایکو سسٹم میں سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی آمد کو فروغ ملے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ۷۰۔۱۰۔۱۰۔۱۰؍ اصول: اگر یہ سمجھ لیں تو زندگی میں کبھی مالی مسئلہ نہیں ہوگا
حکومت کا یہ قدم دراصل دسمبر۲۰۲۵ءمیں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ’سب کا بیمہ، سب کی رکشا (بیمہ قانون ترمیمی بل۲۰۲۵ء) کا تسلسل ہے جس کے ذریعے بیمہ ایکٹ ۱۹۳۸ء ، ایل آئی سی ایکٹ۱۹۵۶ء اورآئی آر ڈی اے آئی ایکٹ۱۹۹۹ء میں ضروری ترامیم کی گئی تھیں۔ ان ترامیم کا مقصد انشورنس سیکٹر کو زیادہ لچکدار، جدید اور عالمی معیار کے مطابق بنانا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی حکومت نے سرحدی ممالک سے آنے والی سرمایہ کاری کے قواعد میں بھی نرمی کی ہے۔ مارچ میں کی گئی ترمیم کے مطابق اب ایسے ممالک جو ہندوستان کے ساتھ زمینی سرحد رکھتے ہیں، وہاں سے آنے والی۱۰؍ فیصد تک کی ’نان کنٹرولنگ ‘حصے داری کے لیے پیشگی سرکاری منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی اور اسے آٹومیٹک روٹ کے تحت لایا جائے گا۔ یہ تبدیلی پریس نوٹ۳؍ کے فریم ورک میں کی گئی ہے جو بنیادی طور پر چین اور پاکستان جیسے ممالک سے ہونے والی سرمایہ کاری کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی منڈیوں میں الیکٹرک کاروں کی فروخت میں بڑی کمی، چین اور امریکہ میں گراوٹ
معاشی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ہندوستان کے انشورنس سیکٹر میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ جدید ٹیکنالوجی، بہتر رِسک مینجمنٹ اور عالمی مہارت بھی اس شعبے میں داخل ہوگی۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو زیادہ بہتر اور سستی انشورنس خدمات ملنے کی امید ہے۔
تاہم بعض ماہرین اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان مقامی کمپنیوں کے مفادات اور پالیسی ہولڈرز کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔ بہرحال، حکومت کا یہ قدم واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ملک کے مالیاتی شعبے کو مزید وسیع کرنے اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔