• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مظاہرین کیخلاف پولیس کے رویے پرشدید تنقید

Updated: October 21, 2026, 3:34 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مختلف تنظیموں کے مطابق مظاہرین کو ہراساں کیا جانا، سوشل میڈیا پر پابندیاں اور انہیں گھروں میں نظر بند کرنا آزادی ٔاظہار رائے پر حملہ اور جمہوریت کا قتل ہے۔

Student leader addressing a press conference of the `Shetkari Kamgar Paksh`. Photo: Inquilab
’شیتکری کامگار پکش‘ کی پریس کانفرنس میں طلبہ لیڈر خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر :انقلاب

اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور شہریوں کو منظم طریقے سے ہراساں کئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس تعلق سے ۳؍ تنظیموں اور طلبہ یونین نے مشترکہ بیان جاری کیا۔ نمائندہ انقلاب سے بات چیت کی اور اس ضمن میں پیر کی شام کو ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی۔ اس میں اسٹوڈنٹس پروگریسیو یونین کی سربراہ سامیا کورڈے جنہیں پولیس نے گھر میں نظر بند کیا اور اگست کرانتی میدان پر احتجاج کے خلاف گھسیٹ کر پولیس وین میں ڈالا تھا، چھاتر بھارتی کے روہت ڈھالے اور کارٹونسٹ کمبائن گروپ کے گورو سرجے راؤ نے ممبئی پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر گھروں میں نظر بند کرنے کو آزادیٔ اظہار رائے کی خلاف ورزی اورجمہوریت کا قتل قرار دیا۔ ان سب کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کارٹونسٹ ستیش اچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ۳؍ ہفتوں میں دوسری بار ہندوستان میں بلاک

پولیس کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی 

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسے اقدامات بغیر کسی قانونی ضابطہ اپنائے کئے جائیں تویہ شہریوںکو آئین میں دی گئی آزادی کی سنگین خلاف ورزی اور پولیس کے ذریعے شہریوں کو ان کے جمہوری حقوق کے استعمال سے روکنے کی کوششوں پر تشویشناک صورت ہے۔ آئین اور قانون کی رو سے پولیس کو قطعاًیہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ پرامن احتجاج ،اختلافِ رائے کو امنِ عامہ کے لئے خطرہ سمجھے یا لوگوں کو مشکل سوالات اٹھانے سے روکنے کے لئے انہیں ہراساں کرے۔اتنا ہی نہیں کارٹونسٹس کمبائن گروپ کے گورو سرجی راؤ اور سامیا کورڈے نے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر عائد پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

یہ بھی کہاگیا کہ جب اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال پوچھنے والی آوازوں کو سڑکوں اور آن لائن دونوں طریقے سے پابندی کا سامنا کرنا پڑے، تو ان واقعات کو محض اکا دکا یا علاحدہ واقعات قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) اور گیانیش کمار کے خلاف احتجاج جمہوری اداروں کے اعتبار اور شہریوں کے اس حق سے متعلق ہے جس پر وہ سوال اٹھا سکیں جو انتخابی عمل میں شرکت کا تعین کرتے ہیں۔ ان خدشات کو دور کرنے کے بجائے، مظاہرین کو ہراساں کرنا اورپابندیاں لگانا عوام کے عدم اعتماد میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آج ملکارجن کھرگے کی وزیراعظم مودی سے ملاقات، ایس آئی آر کا معاملہ اٹھائیں گے

ہم ایسی جمہوریت کے مخالف ہیں

ان افراد نے پولیس اورحکومت کے اس رویے پریہ بھی کہاکہ ’’ہم ایسی جمہوریت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں جس میں طلبہ کو احتجاج کرنے پر پولیس سے ڈرنا پڑے، شہریوں کو اپنی بات کہنے پر نگرانی کا خوف ہو اور کارکنوں کو سوال اٹھانے پر اپنے ڈجیٹل پلیٹ فارمز کھو دینے کی فکر ہو۔ حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سڑکوں پر پولیس کے زور سے خاموشی نہیں لائی جا سکتی اور طاقت کے بل پر اختلافِ رائے کو ختم کرکے مخالفین کوہمنوا بنانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

۵؍ اہم مطالبات اور اپیل 
(۱) پولیس کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کا عمل اور پُرامن احتجاج کے تعلق سے غیر قانونی پابندیاں فوراً ختم کی جائیں(۲) گھروں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کئے جانے کے الزامات کی صاف شفاف تحقیقات کرائی جائیں (۳) اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرنے والے طلبہ اور شہریوں کی نگرانی اور ان کے ساتھ کئے جانے والے نامناسب برتاؤ پر بازپُرس کی جائے (۴) ’میٹا‘ کی جانب سے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر عائد پابندیوں کے معاملے میں شفافیت لائی جائے۔اس میں کی گئی کارروائیوں کی معقول وجوہات بتائی جائیں اور اپیل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ کار فراہم کیا جائے(۵)طلبہ تحریکوں کو خاموش کرنے، شہریوں کو ڈرانے دھمکانے اور جمہوری اظہارِ رائے کو محدود کرنے کی کوششوں کے خلاف ہم سب متحد ہیں۔ ہم طلبہ تنظیموں، فنکاروں، سول سوسائٹی کے گروہوں اور آئین کے تئیں فکر مند شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اختلافِ رائے کو دبانے کی ان کوششوں کے خلاف پوری قوت سے مزاحمت کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK