سنی جمعیۃ العلماء کے دفتر میںمیٹنگ۔اس گھناؤنے جرم پرسخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 10:58 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
سنی جمعیۃ العلماء کے دفتر میںمیٹنگ۔اس گھناؤنے جرم پرسخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
بہار کے جموئی ضلع میں کمسن بچی کی عصمت سے کھلواڑ پر سنّی علماء نے سخت برہمی کا اظہار کیاہے۔ اس انتہائی افسوسناک واقعہ پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور رضا اکیڈمی کی جانب سے مدنپورہ میںتنظیم کے دفتر میں میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ حالیہ اطلاعات کے مطابق واقعے کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ۳؍ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اور دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہےمگر یہ ناکافی ہے۔اس موقع پریہ بھی کہا گیا کہ اسلام نے عورتوں، بچیوں اور کمزوروں کے حقوق اوران کی عزت وعصمت کے تحفظ پر خاص زوردیا ہے۔اس دردناک واقعے نے معاشرے کو بھی سوچنے پرمجبور کردیا ہے۔ اس لئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے محض وقتی کارروائی کافی نہیں بلکہ مجرموں کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جانی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: سائن بریج کی تعمیر میں تاخیر پر ۲۷؍ستمبر کو مورچہ نکالنے کا اعلان
علمائے کرام نے حکومتِ بہار اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل غیر جانبدارانہ اور تیزی سے تحقیقات کی جائیں، تمام ملوث ملزمین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر نابالغ متاثرہ کی شناخت ظاہر کرنے یا اس کی ویڈیو پھیلانے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں ،الحاج محمد سعید نوری، مولانا خلیل الرحمٰن نوری، مولانا فرید الزماں،مولانا امان اللہ رضا، مولانا عبدالجبار ماہر القادری، مولانا اعجاز احمد کشمیری ،قاری نیاز احمد، مولانا مجاہد حسین حبیبی اور مولانا ظفر الدین برکاتی وغیرہ موجود تھے۔