• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب انٹرنیٹ پر خوشبو بھیجنا بھی ممکن، سائنسدانوں کی نئی اور انوکھی ٹیکنالوجی

Updated: October 24, 2026, 11:10 AM IST | Ohio

سائنسدانوں نے’ Scentronic‘ نامی ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جو خوشبو کو ڈجیٹل ڈیٹا میں تبدیل کرکے انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے مقام پر دوبارہ پیدا کرسکتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ اختراع مستقبل میں آن لائن پرفیوم خریدنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس کرنے سمیت ڈجیٹل رابطوں میں سونگھنے کی حس کو بھی شامل کرسکے گی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سائنسدانوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے جس کے ذریعے لوگ انٹرنیٹ پر تصاویر، آڈیو اور ویڈیوز کی طرح خوشبو بھی ایک دوسرے تک پہنچا سکیں گے۔ اس آلے کو’ Scentronic‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تحقیق میں اسے ’’دور دراز مقامات کے درمیان خوشبو کی ترسیل اور اشتراک کا نظام‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایک روبوٹک ناک کی مدد سے کام کرتی ہے، جو کسی مقام پر موجود خوشبو کی شناخت کرتی ہے اور اس کی معلومات کو ڈجیٹل ڈیٹا میں تبدیل کرکے دوسرے مقام پر بھیجتی ہے، جہاں ایک دوسرا آلہ اس خوشبو کو دوبارہ پیدا کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے لوگ آن لائن کوئی پرفیوم خریدنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ بھی اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے کئی امکانات ہیں۔ فی الحال اس کا صرف ایک ابتدائی نمونہ تیار کیا گیا ہے، جو پانچ خوشبوؤں کی شناخت کرکے انہیں دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ ان میں کافی، کیک، مالٹے، بیئر اور سرخ شراب کی خوشبو شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: احتجاج کے پیش نظر دکانداروں نے مدافعتی ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا: رپورٹ

اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی محقق چنیو یانگ (Chunyu Yang) کے مطابق، وہ ’ Scentronic‘ کے ذریعے بازار میں موجود ایک اہم خلا کو پُر کرنا چاہتے ہیں۔ یانگ نے کہا کہ اس شعبے میں زیادہ تر تحقیق دیکھنے، سننے اور چھونے کی حس پر مرکوز رہی ہے، جب کہ سونگھنے کی حس کو نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق، اس تحقیق کا مقصد ڈیجیٹل رابطوں میں حسی تجربے کے اس اہم پہلو کو بھی شامل کرنا ہے، جو اب تک غائب رہا ہے۔ 
’ Scentronic‘ کیسے کام کرتا ہے؟
اس نظام میں چھ گیس سینسرز سے لیس ایک الیکٹرانک ناک استعمال کی جاتی ہے۔ یہ سینسرز ایسے فرّار نامیاتی مرکبات (Volatile Organic Compounds) کی شناخت کرتے ہیں، جو کھانے پینے کی اشیا، پرفیوم اور دیگر چیزوں سے خارج ہوکر ان کی خوشبو پیدا کرتے ہیں۔ ہر سینسر مختلف کیمیائی مرکبات پر مخصوص انداز میں ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں برقی سگنلز کا ایک منفرد نمونہ تشکیل پاتا ہے، جسے بعد میں ڈجیٹل ڈیٹا میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ محققین نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک نظام کو مختلف خوشبوؤں کی شناخت کرنے کی تربیت دی ہے، تاکہ وہ برقی سگنلز کے مختلف نمونوں کو متعلقہ خوشبوؤں سے منسلک کرسکے۔ خوشبو کی شناخت کے بعد الیکٹرانک ناک اس کا ڈیٹا انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے مقام پر بھیج دیتی ہے۔ دوسرے آلے میں خوشبودار مائع کے چھوٹے چھوٹے کنٹینرز اور بجلی سے چلنے والی باریک ڈسکیں موجود ہوتی ہیں۔ یہ ڈسکیں ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ ارتعاش پیدا کرسکتی ہیں، جس سے مائع باریک سوراخوں سے گزرنے لگتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں دھند جیسی باریک پھوار پیدا ہوتی ہے، جو متعلقہ خوشبو کو فضا میں پھیلا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس کے بعد یونان میں بھی احتجاج شروع، اسکولوں میں۱۵؍ ہزار ٹیچروں کی کمی

دوسرے آلے میں خوشبوؤں کے اپنے ذخائر موجود ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بھیجی گئی خوشبو کو دوبارہ پیدا کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوشبو کے اصل ذرات انٹرنیٹ کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک نہیں جاتے، بلکہ صرف اس سے متعلق ڈجیٹل معلومات منتقل ہوتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد موصول ہونے والی خوشبو کی شناخت اور اسے دوبارہ پیدا کرنا ہے؛ یہ اپنے طور پر نئی خوشبو تیار نہیں کرسکتی۔ مثال کے طور پر، یہ کافی کی خوشبو پیدا کرسکتی ہے، لیکن کافی کی کسی مخصوص قسم کی بالکل وہی خوشبو پیدا کرنے کی صلاحیت فی الحال اس میں موجود نہیں ہے۔ 
تجربات کے دوران’ Scentronic‘ نے ان پانچ خوشبوؤں کی شناخت اور انہیں دوبارہ پیدا کرنے میں ۹۶؍ فیصد درستگی کا مظاہرہ کیا جن کی شناخت کیلئے اسے تربیت دی گئی تھی۔ اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے Science Advances میں شائع کئے گئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK