اساتذہ کی کمی سےاسکولوںمیں طلبہ کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔کچھ والدین بچوںکے ساتھ آبائی وطن جا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 1:39 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
اساتذہ کی کمی سےاسکولوںمیں طلبہ کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔کچھ والدین بچوںکے ساتھ آبائی وطن جا رہے ہیں۔
ایس آئی آر کی ڈیوٹی سے زیادہ، اساتذہ اس کی وجہ سے اسکولوں میں طلبہ کی کم ہوتی تعداد سے فکر مند ہیں۔ ایس آئی آر کی ڈیوٹی کرنے والے اساتذہ کی جماعت میں طلبہ کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے جس سے ان کیلئے متعدد دشواریاں پیدا ہوتی دکھائی د ے رہی ہیں ۔ کلاس روم میں ٹیچر کے موجود نہ ہونےسے طلبہ کی غیر حاضری بڑھ رہی ہے۔ طلبہ کی کم ہوتی تعداد سے اساتذہ پر سرپلس ہونے کا خوف بھی طاری ہے۔ جنوبی ممبئی کی ایک اسکول کی عمررسیدہ معلمہ نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ میری عمر ۵۴؍سال سے ہے، مجھے ایس آئی آر کی ڈیوٹی دی گئی ہے۔ ہم جیسی عمر والوں کیلئے یہ ڈیوٹی بہت دشوارکن ہے۔ اس ڈیوٹی سے ذہنی دبائو اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کسی بڑی بیماری کے لاحق ہو جانے کا خطرہ ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کے کرلا میں پہاڑی تودہ گرنے سے ۲؍ ہلاکتیں، ۶؍ سے ۸؍ افراد ملبے میں پھنسے
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ ایس آئی آر کی ڈیوٹی کی وجہ سے میں اپنی طالبات پر توجہ نہیں دے پا رہی ہوں ۔ کلاس روم میں ٹیچرکے نہ ہونے سے طالبات کی غیرحاضری متواتر بڑھ رہی ہے۔ ٹیچرکی غیر حاضر ہونے سے کچھ والدین، بچوں کے ساتھ آبائی وطن بھی جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ کئی والدین تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ہماری بچی کا خارجہ سرٹیفکیٹ دے دیجئے ہم اس کاداخلہ کسی اور اسکول میں کرائیں گے تاکہ اس کی پڑھائی کانقصان نہ ہو۔ بڑی مشکل سے مطلوبہ طالبات کی تعداد پوری کی تھی لیکن جس طرح ان کی تعدادکم ہو رہی ہے، اس سے سرپلس ہونے کا خطرہ پیداہوسکتاہے۔ چنانچہ محکمہ تعلیم سے درخواست ہے کہ وہ ہمیں ایس آئی آر کی ڈیوٹی سے مستثنیٰ کر دے تاکہ ہم بچوں کی پڑھائی پر توجہ دے سکیں۔ ‘‘مغربی مضافات کے ایک اسکول ٹیچرکے مطابق ’’ایس آئی آر کی ڈیوٹی نے تعلیمی نظام درہم برہم کر رکھا ہے۔ بڑی تعدادمیں ٹیچروں کے ایس آئی آر ڈیوٹی کرنے سے اسکولوں میں طلبہ کی حاضری مستقل طور پر ۲۰؍ سے۲۵؍فیصدکم ہوگئی ہے۔ ایک توامسال ویسے بھی داخلے کم ہوئے ہیں۔ ٹیچروں کی قلت سے طلبہ کی پڑھائی کا نقصان ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو ان نجی اسکولوں میں منتقل کر رہے ہیں جہاں ٹیچر مطلوبہ تعداد میں موجود ہیں ۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی کی سڑکوں پر ٹریفک کے بڑھتے دباؤ سے دشواری
یوم آزادی کی سرگرمیاں بھی متاثر
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ ایس آئی آر کی ڈیوٹی سےجہاں طلبہ کی پڑھائی کانقصان ہو رہا ہے وہیں ٹیچروں کے اسکول میں نہ ہونے سے دیگر سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں ۔ جیسے عنقریب یوم آزادی پر اسکولوں میں ہونے والی تقریبات کی تیاریاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ امسال بیشتر اسکولوں میں اس تعلق سے ہونےوالی سرگرمیاں پھیکی دکھائی دے رہی ہیں۔ ‘‘