Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہیروشیما اور ناگاساکی کے ۸۲؍ سال

Updated: August 12, 2026, 1:58 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’’ہیبا کوشا‘‘ (Hibakusha) یعنی کون؟ یہ بہت اہم اور قیمتی لوگ ہیں مگر افسوس کہ دُنیا کے عوام کی اکثریت ان سے واقف نہیں ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

’’ہیبا کوشا‘‘ (Hibakusha) یعنی کون؟ یہ بہت اہم اور قیمتی لوگ ہیں مگر افسوس کہ دُنیا کے عوام کی اکثریت ان سے واقف نہیں ہے۔ یہ، وہ افراد ہیں جنہوں نے اب سے ۸۱؍ سال قبل ہیروشیما اور ناگاساکی کے قیامت خیز ایٹمی حملوں کو نہ صرف دیکھا اور بھگتا بلکہ تب سے لے کر اب تک کے مسائل و مصائب، جو مابعد اثرات کے طور پر سر اُبھارتے رہتے ہیں، کے چشم دید گواہ ہیں۔ یہ افراد ۶؍ اگست کو ہیروشیما اور ۹؍ اگست کو ناگاساکی پر گرنے والے جوہری بم اور تمام شہر کے تباہ و تاراج ہوجانے کے دُکھ ہی کو سینے سے لگائے ہوئے نہیں ہیں، ان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اُن قیامت خیز حملوں کی تفصیل نئی نسل تک پہنچانے میں ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں،خواہ اُن کا تعلق کسی ملک سے ہو۔ مقصد یہ ہے کہ دُنیا کو امن کا پیغام دے سکیں اور یہ بتا سکیں کہ جنگوں سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یہ خود سر نسل قابو میں آنے والی نہیں!

جاپان میں معمر افراد کی کثرت ہے۔اُن میں ہیباکوشا بھی ہیں جن کی آبادی اس وقت ۹۹۱۳۰؍ بتائی جاتی ہے جن کی اوسط عمر اس وقت ۸۶؍ سال سے زیادہ ہے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ اب بھی کافی لوگ موجود ہیں جو بعد کی نسل کو بتا سکتے ہیں کہ جوہری اسلحہ کتنا خطرناک ہوتا ہے اور دُنیا کو ہلاکت خیز حملوں اور ہتھیاروں سے بچانے کی کتنی ضرورت ہے۔ اس میں شک نہیں جاپانی شہر ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد پھر کوئی شہر جوہری بموں کی زد پر نہیں آیا مگر چونکہ پوری دُنیا میں ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہے اور کئی ممالک نیوکلیائی طاقت بن چکے ہیں اس لئے وقت کے ساتھ وسیع تر تباہی کے ان ہتھیاروں کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ جتنے ہیبا کوشا ہیں، عالمی آبادی کیلئے سب کا ایک ہی پیغام ہے کہ ۱۹۴۵ء میں جو ہوا اُسے ذہن میں رکھئے اور دُنیا کے حکمرانوں پر دباؤ ڈالئے کہ وہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کو اولیت دیں اور جنگوں سے دور رہیں۔ اگر جنگ ہوجائے تو اسے روکیں اور نیوکلیائی ہتھیاروں کا خیال بھی دل میں نہ لائیں۔ کوئی ہیبا کوشا مذکورہ جوہری بمباری کے وقت نوزائیدہ تھا، کوئی دس بارہ سال کا تھا، کوئی اس سے زیادہ اور کوئی اس سے کم۔ کسی کی یادیں بہت صاف اور واضح ہیں اور کسی کی یادوں میں وہ معلومات بھی شامل ہوگئی ہیں جو بعد میں اُنہیں ملیں۔ ہیباکوشا سفر سے نہیں گھبراتے کیونکہ اُن کے پاس پیغام ہے جو وہ دُنیا کے لوگوں تک پہنچانا چاہے ہیں، اس لئے جہاں بھی بلایا جاتا ہے وہ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: افسوس کہ شرمندہ کوئی نہیں!

ان کی تنظیمیں ہیں جیسے ہیباکوشا افراد کی داستانیں، عالمی مہم برائے انسدادِ نیوکلیائی اسلحہ اور دیگر۔ یہ تنظیمیں بھی سال بھر امن کے پیغام کو عام کرنے کیلئے سرگرم رہتی ہیں۔کئی ہیباکوشا گلوبل ایکٹیوسٹ ہیںمگر، مشکل یہ ہے کہ امن کے پیغامبر چاہے جتنی میٹنگیں، سمینار اور مذاکرے کرلیں، اُن کے پیغام کو عوام ضرور سمجھیں گے کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ کتنا اہم ہے مگر حکمرانوں کو کون سمجھائے گا؟ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد عالمی سطح پر اتنی بیداری آجانی چاہئے تھی کہ لوگ جنگ سے بالخصوص نیوکلیائی اسلحہ سے توبہ کرتے مگر جنگوں سے دور ہونے کے بجائے دُنیا جنگوں کے زیادہ قریب ہورہی ہے ۔ یہ نہایت افسوسناک ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK