Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ امتحان منسوخ ہونے سےطلبہ اور والدین میں مایوسی ا ور برہمی

Updated: May 13, 2026, 11:02 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

محنت ، ایمانداری اور جوش وخروش سے امتحان دینے والے طلبہ تذبذب میں،دوبارہ امتحان کیلئے ایک مہینے کاوقت دینے کی اپیل ۔

Students And Parents Are Disappointed And Angry Due To The Cancellation Of The NEET Exam.Photo;INN
طلبہ کو اب دوبارہ نیٹ امتحان کی تیاری کرنی ہوگی-تصویر:آئی این این
 ایم بی بی ایس ، بی ڈی ایس، آیوش اور ویٹرنری کورسیز میں داخلے کیلئے۳؍مئی کو منعقد کیاگیا نیٹ امتحان ایک مرتبہ پھرپیپرلیک ہونے سے تنازع کا شکار ہوگیا ہے ۔ پیپر لیک ہونے سے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی نگرانی میں منعقد ہونے والے اہم امتحان کو منسوخ کر کےاس معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کر دی گئی ہے ۔ امتحان منسوخ کئے جانے سے طلبہ اور سرپرستوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
 
 
این ٹی اے نے دوبارہ امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن جن طلبہ نے بڑی محنت ، ایمانداری اور جوش وخروش سے امتحان دیاتھا اور انہیں ۷۲۰؍میں سے ۵۰۰؍ سے زیادہ مارکس ملنے کی اُمید تھی ، ان میں بڑی مایوسی پائی جا رہی ہے ۔ وہ کسی اور کی غلطی سے دوبارہ امتحان دینے کو ناکردہ گناہ کی سزا سمجھ رہے ہیں۔
 
 
ساکی ناکہ کی خان اقراء تنویر احمدجنہوں نے گھاٹ کوپر میں واقع آئی ٹی مائنڈس کوچنگ سینٹر سے نیٹ امتحان کی تیاری کی تھی، بتایا کہ ’’ میں نے نیٹ امتحان کیلئے بڑی محنت کی تھی ۔ فزکس ،کیمسٹری اور بائیولوجی کے پیپر بھی ٹھیک کئے تھے ۔ ۷۲۰؍ میں سے ۵۰۰؍ سے زیادہ مارکس ملنے کی پوری اُمید تھی لیکن امتحان منسوخ ہونے سے ساری اُمیدوں پر پانی پھیر گیا ۔ اب نئے سرے سے دوبارہ امتحان دینے کیلئے پڑھائی کرنی ہوگی ۔ پتہ نہیں پیپر آسان یا مشکل آتاہے، تذبذب والی کیفیت سے مایوسی ہو رہی ہے۔‘‘جوگیشوری کی ہادیہ امتیاز جنہوں نے اپنے اسکول کے مدنی سوپر ۴۰؍ سے نیٹ امتحان کی تیاری کی تھی، ان کے مطابق ’’ میں نے ۷۲۰ ؍ میں سے ۶۳۰؍مارکس کا پیپر کیا تھا، مجھے ساڑھے ۵۰۰؍ سے زیادہ مارکس ملنے کی اُمید تھی لیکن ،کیا معلوم تھا کہ پیپر لیک ہونے سے امتحان منسوخ ہو جائے گا۔ امتحان رد ہونے کا بہت افسوس ہے ۔ دوبارہ امتحان دینے کیلئے ازسرنو تیاری کرنی ہوگی ۔ این ٹی اے سے درخواست ہےکہ وہ امتحان کی تیاری کیلئے کم ازکم ایک مہینے کا وقت دے تاکہ نئے عز م سے تیاری کی جاسکے اور گزشتہ امتحان میں نصاب کاجو حصہ چھوٹ گیاتھا، اس کی پڑھائی بھی کی جاسکے ۔ امتحان منسوخ ہونے کے باوجود میں یہی کہوں گی کہ جو بھی ہوتاہے وہ ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے ، اسی یقین کے ساتھ آئندہ ہونے والے امتحان کی تیاری کرنی ہے ۔‘‘ممبئی کے طالب علم  محمود شیخ جنہوںنے ناندیڑ سے نیٹ امتحان دیاہے، کہ بقول’’ ۲۰۲۴ء میں بھی نیٹ امتحان میں بدعنوانی ہوئی تھی لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت کی وجہ سے قومی سطح پر امتحان منسوخ نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس مرتبہ امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ لاکھوں اُمیدواروں کیلئے چونکا دینےوالا ہے ۔ امتحان کے رد ہونے کی اطلاع سے پریشانی بڑھ گئی ہے۔ ۵۶۶؍ مارکس ملنے کی اُمید تھی ۔‘‘ طہٰ کے والد محمود شیخ کے مطابق ’’نیٹ امتحان کے منسوخ ہونے کی اطلاع ہمارے لئے افسوسناک ہے۔ میرے فرزند کو تقریباً ساڑھے ۵۰۰؍مارکس ملنے کی اُمید تھی۔ اتنے مارکس کی بنیاد پر کسی مائناریٹی کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ ملنے کی اُمید بن گئی تھی۔اب نئے سرے سے اسے امتحان کی تیار ی کرنی ہے ۔ مجھے اگلے ہفتے حج پر بھی جانا ہے ،ساری تیاریاں ہوگئی ہیں ، لیکن نیٹ امتحان کے کینسل ہونے سے ذہن منتشرہے۔ ‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK