• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امدادی فنڈز میں کمی سے ۲۰۳۰ء تک ۵۴؍ لاکھ بچوں کی موت کا خدشہ: تحقیق

Updated: February 06, 2026, 4:06 PM IST | Ankara

ایک نئی عالمی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بین الاقوامی امداد میں جاری کٹوتیاں برقرار رہیں تو ۲۰۳۰ء تک دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً ۵۴؍ لاکھ بچے جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ مطالعہ کے مطابق امداد میں کمی صحت کے نظام کو شدید متاثر کرے گی اور گزشتہ دو دہائیوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت الٹ سکتی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بین الاقوامی امداد میں مسلسل کمی کے نتیجے میں ۲۰۳۰ء تک پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً ۵۴؍ لاکھ بچوں کی اضافی اموات کا خدشہ ہے۔ یہ انتباہ ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امدادی فنڈز میں کمی عالمی صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ تحقیق دی لانسیٹ گلوبل ہیلتھ میں شائع ہوئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر موجودہ امدادی کٹوتیوں کا رجحان برقرار رہا تو ۲۰۳۰ء تک مجموعی طور پر ۶ء۲۲؍ ملین اضافی اموات ہو سکتی ہیں، جن میں ایک بڑا حصہ بچوں کا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اموات زیادہ تر ایسی بیماریوں سے ہوں گی جو قابلِ علاج یا روکی جاسکتی ہیں۔ مطالعے میں عالمی امداد کے مستقبل کے تین ممکنہ منظرناموں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ پہلے منظرنامے میں امداد کی موجودہ سطح برقرار رہتی ہے، دوسرے میں امداد میں معتدل کمی آتی ہے، جبکہ تیسرے اور شدید ترین منظرنامے میں امدادی فنڈز میں نمایاں کٹوتی کی جاتی ہے۔ محققین کے مطابق شدید کمی کی صورت میں بچوں اور بڑوں دونوں میں اموات کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ جوہری مذاکرات اب عمان میں، استنبول کا منصوبہ منسوخ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں میں بین الاقوامی امداد نے دنیا بھر میں بچوں کی اموات میں نمایاں کمی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں۔ امدادی فنڈز نے ویکسینیشن، غذائی معاونت، زچہ و بچہ صحت کی خدمات اور متعدی بیماریوں کے علاج کو ممکن بنایا، جس سے لاکھوں جانیں بچیں۔ تاہم تحقیق خبردار کرتی ہے کہ امداد میں کمی سے یہ تمام پروگرام خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ صحت کے نظام، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، مزید کمزور ہو جائیں گے اور بنیادی خدمات متاثر ہوں گی، جس کا سب سے بڑا اثر بچوں پر پڑے گا۔ مطالعے کے مطابق امداد میں معتدل کمی کی صورت میں بھی لاکھوں اضافی اموات ہو سکتی ہیں، جبکہ شدید کٹوتیوں کی صورت میں گزشتہ دہائیوں میں حاصل کی گئی پیش رفت بڑی حد تک ضائع ہو سکتی ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ یہ صورتحال عالمی سطح پر صحت اور ترقی کے اہداف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: پیرس پولیس نے ایکس کے دفتر پر چھاپہ مارا، ایلون مسک کو سمن، مسک نے اسے ”سیاسی حملہ“ قرار دیا

تحقیق کے مصنفین نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی فنڈنگ کو ترجیح دیں اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو برقرار رکھیں۔ ان کے مطابق امداد میں کمی نہ صرف انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بنے گی بلکہ طویل مدت میں عالمی عدم استحکام اور انسانی بحرانوں کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر عالمی امداد کو مستحکم رکھا جائے تو لاکھوں اموات کو روکا جا سکتا ہے، خاص طور پر بچوں میں، اور ۲۰۳۰ء تک مقررہ عالمی صحت اہداف کے حصول کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK