Updated: July 06, 2026, 9:51 PM IST
| Khartoum
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی بچوں کے لیے پہلے سے زیادہ جان لیوا ہوتی جا رہی ہے۔ ادارے کے مطابق ۲۰۲۶ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران کم از کم ۳۳۰؍ بچے ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ دارفور اور کردوفان کے علاقے سب سے زیادہ متاثر رہے۔ یونیسف نے کہا کہ بچے گھروں، بازاروں، سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں تک ہر جگہ حملوں کی زد میں ہیں، جبکہ مسلسل تشدد نے انہیں شدید نفسیاتی صدمے اور بے گھر ہونے کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسیز (RSF) کے درمیان جاری جنگ بچوں کے لیے مسلسل زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہے، جہاں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کم از کم ۳۳۰؍ بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ یونیسف نے پیر کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ سوڈان بھر میں بچے ایک ایسی جنگ کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مہلک ہوتی جا رہی ہے۔ ادارے کے مطابق دارفور اور کردوفان کی ریاستیں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔ یونیسف نے خاص طور پر شمالی کردوفان کے دارالحکومت العبید کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر اور اس کے گردونواح میں انسانی بحران تیزی سے سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کا چین کو بڑا دھچکا، سستی اشیا پر ۳؍ یورو کی یکساں کسٹم ڈیوٹی عائد
بیان کے مطابق مئی سے اب تک صرف شمالی کردوفان میں ڈرون حملوں اور دیگر عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم ۱۸؍ بچے ہلاک جبکہ ۱۷؍ زخمی ہوئے ہیں۔ سوڈان میں یونیسف کے نمائندے شیلڈن ییٹ نے کہا کہ بچے تشدد، بے گھری اور بنیادی سہولیات کی محرومی کے نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے بچوں کے لیے اب کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں رہی۔ شیلڈن ییٹ کے مطابق بچے نہ صرف اپنے گھروں بلکہ سڑکوں، بازاروں، اسکولوں اور طبی مراکز تک رسائی کی کوشش کے دوران بھی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو کبھی بھی جنگ کا ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے اور ان کی جان، حقوق اور مستقبل کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: توانائی اے آئی کے لیے سب سے بڑا چیلنج: بلیک راک سی ای او
یونیسف نے خبردار کیا کہ مسلسل فضائی حملوں، بمباری اور جبری نقل مکانی نے بچوں میں خوف، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی صدمے کو انتہائی گہرا کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق جاری تنازع بچوں کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی شکار بنا رہا ہے، جن میں بچوں کی جبری بھرتی، اغوا، جنسی تشدد اور اسکولوں و اسپتالوں پر حملے شامل ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے دیگر اداروں نے بھی العبید میں انسانی بحران پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی اسی شدت سے جاری رہی تو شہر کو شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چین: ببل ٹی فرم ”مولی ٹی“ کو لوگو کاپی رائٹ کیس میں لوئی ویتون کو ۵ء۱؍ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنےکاحکم
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ ۲۰۲۵ء میں الفاشر پر آر ایس ایف کے قبضے کے بعد جس نوعیت کی بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، ویسا ہی منظر العبید میں بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سوڈان میں اپریل ۲۰۲۳ء سے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسیز (RSF) کے درمیان اقتدار اور نیم فوجی دستوں کو فوج میں ضم کرنے کے تنازع پر جنگ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس جنگ میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک جبکہ تقریباً ایک کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جسے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔