لوگوں نے زندہ رہنے کیلئے درختوں کے پتے اور جانوروں کا چارہ کھانا شروع کر دیاجبکہ حکومت قحط کی تردید کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 11:39 AM IST | Agency | Khartum
لوگوں نے زندہ رہنے کیلئے درختوں کے پتے اور جانوروں کا چارہ کھانا شروع کر دیاجبکہ حکومت قحط کی تردید کرتی ہے۔
غیر سرکاری تنظیموں کے ایک گروپ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوڈان میں لاکھوں افراد دن بھر میں صرف ایک وقت کا کھانا کھا رہے ہیں۔ جبکہ ملک میں خوراک کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور اس کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایلون مسک کے بیان سے کووڈ ویکسین پر نئی بحث، ماہرین کا ردعمل
سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ جو بدھ کے روز اپنے تیسرے سال میں داخل ہو رہی ہے، بھوک کے پھیلاؤ اور لاکھوں افراد کی نقل مکانی کا سبب بنی ہے، جس سے دنیا کے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک نے جنم لیا ہے۔ایکشن اگینسٹ ہنگر، کیئر انٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، مرسی کور اور نارویجن رفیوجی کونسل کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازع سے سب سے زیادہ متاثرہ دو علاقوں،شمالی دارفور اور جنوبی کردفان میں لاکھوں خاندان صرف ایک وقت کی غذا پر گزارہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شمشاد بیگم کی آواز کی کھنک آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اکثر اوقات وہ بغیر کچھ کھائے پورے دن گزار دیتے ہیں، ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں نے زندہ رہنے کے لیے درختوں کے پتے اور جانوروں کا چارہ کھانا شروع کر دیا ہے۔سوڈانی حکومت ملک میں قحط کی موجودگی کی تردید کرتی ہے، جبکہ ریپڈ سپورٹ فورسز اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ان حالات کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہیں۔انسانی ضروریات اور ردِ عمل کے پلان برائے۲۰۲۶ء کے مطابق سوڈان کی تقریباً۶۱ء۷؍ فی صد آبادی جو کہ۲ء۸۹؍کروڑ افراد بنتی ہے، خوراک کے شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔خیال رہے کہ ماہ نومبر میں بھوک کی نگرانی کرنے والے ایک عالمی ادارے نے پہلی بار الفاشر شہر اور کادقلی میں قحط کی تصدیق کی تھی۔