• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوڈانی فوج نے اپنے ہی ملک میں ڈرون چلایا،۱۰۰؍ سے زائد شہری فوت

Updated: October 29, 2026, 3:45 PM IST | Agency | Khartoum

فوج کے شدید حملے کے نتیجے میں ایک مارکیٹ کا پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی۔

A large number of people have been displaced due to clashes between paramilitary forces and the army. Photo: INN
 نیم فوجی دستے اور فوج میں تصادم کے سبب بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

سوڈان کے جنوب مغربی صوبے جنوبی دارفور کے دارالحکومت نیالا کے ایک مصروف بازار میں سوڈانی فوج کے ڈرون حملے میں۱۰۰؍سے زائد شہری ہلاک اور۱۱۳؍ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی مقامی تنظیم ’ایمرجنسی لائرز‘  کے مطابق، یہ ہولناک واقعہ پیر کی شام نیالا شہر کے دومایا محلے میں واقع’تانقونگ مارکیٹ‘ میں پیش آیا۔

اس شدید حملے کے نتیجے میں مارکیٹ کا پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ طبی فلاحی تنظیم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘نے تصدیق کی ہے کہ ان کے اسپتال میں درجنوں لاشیں لائی گئی ہیں اور۱۵۰؍ کے قریب زخمیوں کا علاج جاری ہے۔نیالا شہر پر اس وقت نیم فوجی دستے ’ریپڈ سپورٹ فورسیز‘( آر ایس ایف)کا کنٹرول ہے جس کی وجہ سے سوڈانی فوج نے اس علاقے کو نشانہ بنایا تھا لیکن یہ حملہ ایک سویلین مارکیٹ پر ہوا جہاں عام شہری خریداری اور کاروبار میں مصروف تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا وینزویلا کو امریکہ کی۵۱؍ویں ریاست بنانے کا دعویٰ

سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران  فریقین (سوڈانی فوج اور آر ایس ایف) کی جانب سے ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر۲۰۲۶ء کے ابتدائی ۳؍ ہفتوں کے دوران ہی ملک میں ڈرون حملوں سے۳۰۰؍ سے زائد عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے متنازع سرحدی علاقے ابیئی میں بھی ایک بازار پر ڈرون حملے میں ۱۵۰؍ سے زائد افراد  ہلاک ہوگئے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بہیمانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے اس واقعے پر آزادانہ بین الاقوامی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK