Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰؍دن کے دوران شکر کی قیمتوں میں اضافہ

Updated: August 21, 2026, 3:09 PM IST | Agency | New Delhi

جو شکر محض۴۵؍ روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھی، وہ صرف۲۰؍ دنوں میں۶۵؍ روپے فی کلو تک پہنچ گئی،قیمت پرقابو پانے کی کوشش۔

Amid rising sugar prices, the government has set a limit on sugar stocks. Picture: INN
شکر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان حکومت کی جانب سے شکر کے ذخیرے کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ تصویر: آئی این این

مٹھاس گھولنے والی شکر اب کچھ کڑوی محسوس ہونے لگی ہے ،ایک بار پھر اس کے دام بڑھ گئے ہیں۔جمعرات کو شکر کی قیمت۶۵؍ روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی ہے جس سے عام آدمی کی جیب پر بھی بڑا بوجھ پڑا ہے۔ ایک طرف تہوار قریب آ رہے ہیں تو دوسری طرف مٹھائیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

قیمتیں کتنی بڑھیں؟

شکرکی قیمت صرف۲۰؍ دنوں میں۲۰؍ روپے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یعنی جوشکر محض۴۵؍ روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھی، وہ صرف۲۰؍ دنوں میں۶۵؍ روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ جمعرات کوشکر کی قیمت ۶۵؍روپے فی کلو ہوگئی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شکر کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی اصل وجہ تاجر سمجھ پا رہے ہیں اور نہ ہی صارفین۔

یہ بھی پڑھئے:ہند و پاک کے قومی ترانے گانے کیلئے اردو, بنگالی سیکھی: برطانوی گلوکارہ کا انکشاف

کس پر زیادہ اثر پڑے گا؟

شکر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر یقینی طور پر شکر سے تیار ہونے والی تمام اشیاء اور مٹھائیوں پر پڑے گا۔ ابھی رکشا بندھن بھی قریب ہے۔ ایسے میں شکر کے مہنگے ہونے سے مٹھائیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ہر اس گھریلو خاتون پر بھی اثر پڑے گا جو مہمانوں کیلئے چائے اور بچوں کیلئے روزمرہ کھانے میں میٹھی اشیاء تیار کرتی ہیں۔ گھریلو بجٹ متاثر ہوگا، جبکہ مٹھائی، بیکری، بسکٹ اور کولڈ ڈرنکس بنانے والوں کے اخراجات بھی بڑھ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: مذہب تبدیل کرنے سے ذات نہیں بدل جاتی

شکر کے معاملے میں حکومت سخت

حکومت نے بھی شکر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی کے درمیان ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ شکر کے ذخیرے کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ جن تاجروں اور کمپنیوں کے پاس پہلے۳۰؍ دنوں کے لئےشکر کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت تھی، وہ اب صرف۱۵؍ دنوں کی شکرذخیرہ کر سکیں گے۔ یہ ضابطہ یکم ستمبر سے نافذ ہو کر ۳۰؍ نومبر تک جاری رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ اس بار تہواروں کے دوران شکر کی قیمتوں اور دستیابی دونوں پر دباؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

حکومت کا اقدام

گھریلو بازار میں شکر کی قیمتوں میں تیزی کے درمیان حکومت نے ۱۰؍ لاکھ ٹن خام شکر کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کی جانب سے جمعرات کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ چھوٹ۳۱؍ اکتوبر تک کے لئے دی گئی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK