امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے مطابق گرین کارڈ (امریکی مستقل رہائش) کی تجدید کے خواہاں غیر ملکی اپنے وطن واپس جائیں اور وہاں سے درخواست دیں، نئے قوانین کے تحت زیادہ تر درخواست دہندگان کو تجدید کے عمل کے لیے امریکہ چھوڑنا ہوگا۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 8:02 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے مطابق گرین کارڈ (امریکی مستقل رہائش) کی تجدید کے خواہاں غیر ملکی اپنے وطن واپس جائیں اور وہاں سے درخواست دیں، نئے قوانین کے تحت زیادہ تر درخواست دہندگان کو تجدید کے عمل کے لیے امریکہ چھوڑنا ہوگا۔
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) نے جمعہ کو نئی پالیسی کا اعلان کیاجس کے تحت گرین کارڈ کے خواہاں غیر ملکیوں کو امریکہ سے باہر محکمہ خارجہ کے ذریعے دستاویزی عمل سے گزرنا ہوگا۔ تمام درخواستوں کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا۔یو ایس سی آئی ایس کے ترجمان زیک کاہلر کے مطابق، یہ پالیسی قانون کی اصل روح کے مطابق ہے اور غیر قانونی راستوں کو روکتی ہے۔
بعد ازاں انہوں نے کہا کہ جب غیر ملکی اپنے ملک سے درخواست دیں گے، تو ان افراد کو ڈھونڈنے اور نکالنے کی ضرورت کم ہوگی جو مسترد ہونے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر چھپ جاتے ہیں۔طالب علم، عارضی کارکن، یا سیاحتی ویزا پر آنے والے مختصر مدت کے لیے آتے ہیں اور ان کے لیے یہ نظام بنایا گیا تھا کہ وہ دورہ ختم ہونے پر چلے جائیں، نہ کہ گرین کارڈ کا پہلا قدم بنائیں۔
یہ بھی پڑھئے: شی جن پنگ سے ملاقات کا اثر، ڈونالڈ ٹرمپ تائیوان کے صدر سے گفتگو کیلئے تیار
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے اماراتی طلبہ کی تعداد تقریباً آدھی رہ گئی ہے، جس کی وجہ جرائم اور زیادہ ٹیوشن فیس ہیں۔ پناہ گزین سپورٹ گروپ نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد ممالک سے فرار ہونے والے حقیقی پناہ کے متلاشیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک پرانے فیصلے نے پناہ گزینوں کی تعداد کی درمیانی سالانہ حد بڑھا کر ۱۰؍ ہزار سفید فام جنوبی افریقیوں کو امریکہ داخلے کی اجازت دی تھی۔جبکہ جنوری۲۰۲۵ء میں پناہ گزین پروگرام کی غیر معینہ معطلی کے بعد دسیوں ہزار پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں۔مزید برآں تقریباً ۲؍ لاکھ افراد سرحدی کیمپوں اور امیگریشن حراستی مراکز میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر افغانستان، شام، وینزویلا اور جمہوریہ کانگو سے ہیں۔دریں اثناء امریکہ نے۲۰۲۶ء کے لیے سالانہ پناہ گزینوں کی حد کم کر کے ۷۵۰۰؍کر دی ہے، جس سے شدید معطلی اور رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔