سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ دہلی، این سی آر میں پرانی گاڑی مالکان کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے،یہ عارضی ہدایت دہلی حکومت کی جانب سے دائر کردہ ایک نظر ثانی درخواست کے جواب میں جاری کی گئی۔
EPAPER
Updated: August 12, 2025, 10:03 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ دہلی، این سی آر میں پرانی گاڑی مالکان کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے،یہ عارضی ہدایت دہلی حکومت کی جانب سے دائر کردہ ایک نظر ثانی درخواست کے جواب میں جاری کی گئی۔
لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے منگل کو ایک عارضی حکمنامے میں کہا کہ دہلی، این سی آر میں۱۰؍ سال سے زیادہ پرانی ڈیزل گاڑیوں اور۱۵؍ سال سے زیادہ پرانی پیٹرول گاڑیوں کے مالکان کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے۔ یہ عارضی ہدایت دہلی حکومت کی جانب سے دائر کردہ ایک نظر ثانی درخواست کے جواب میں جاری کی گئی۔ دہلی حکومت نے سپریم کورٹ کے ۲۰۱۸ءکے اس حکم پرنظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی جس میں فضائی آلودگی روکنے کی کوششوں کے تحت شہر میں۱۰؍ سال سے زیادہ پرانی ڈیزل گاڑیوں اور۱۵؍ سال سے زیادہ پرانی پیٹرول گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ پابندی یکم جولائی سے نافذ ہوئی تھی۔ اس ہدایت کے تحت معیاد ختم ہونے والی گاڑیوں میں ایندھن نہیں بھروایا جا سکے گا۔ اس پابندی کو نافذ کرنے کے لیے قومی دارالحکومت کے تقریباً ۳۵۰؍پٹرول پمپوں پر خودکار نمبر پلیٹ شناخت کرنے والے کیمرے نصب کیے گئے تھے تاکہ ایسی گاڑیوں کی شناخت کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: بھتوڑیا قتل عام کے زندہ بچے تمام ۱۰؍ملزمین بری
بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق، درخواست میں یہ موقف پیش کیا گیا کہ آلودگی کنٹرول کے مزید سخت اقدامات موجود ہیں، جیسے کہ `پولیوشن انڈر کنٹرول سرٹیفکیٹ سسٹم کا بڑھا ہوا دائرہ کار اوربھارت اسٹیج ۴؍معیار کا نفاذ۔ دہلی حکومت نے مزید استدلال کیا کہ ۲۰۱۸ءکی پابندی نے دہلی کے بڑی تعداد میں لوگوں کو عملی مشکلات میں ڈال دیا ہے جو ایسی گاڑیوں کے مالک ہیں جو آلودگی کے معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق، دہلی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سولیسٹر جنرل تشار مہتا نے منگل کو عدالت سے کہا کہ ایسی گاڑیوں پر پابندی `جبری ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جہاں ذاتی استعمال کی گاڑیوں کے مالکان کو۱۰ یا ۱۵؍ سال بعد انہیں فروخت کرنا پڑتا ہے، وہیں اسی قسم کی گاڑیاں تجارتی استعمال کی صورت میںمعیاد پوری ہونے کے بعدبھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے حکومت کے `ویہان ڈیٹابیس کے حوالے سے بتایا کہ دہلی میں۶۲؍ لاکھ سے زیادہ معیادختم ہونے والی گاڑیاں موجود ہیں۔