Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ کی بایو میٹرک ووٹنگ پر سماعت، مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس

Updated: April 13, 2026, 8:10 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے ووٹنگ سے قبل بایومیٹرک اور چہرہ شناختی نظام متعارف کرانے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکز اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست اشوینی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں انتخابی بدعنوانی روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسا نظام فوری طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے قانونی ترامیم اور وسائل درکار ہوں گے، تاہم معاملہ اہم ہے اور غور طلب ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ووٹنگ کے عمل میں بایومیٹرک اور چہرہ شناختی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی اور مرکز کے ساتھ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کیا۔ اس درخواست کے ذریعے انتخابی نظام میں شفافیت بڑھانے اور دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اپیل کی گئی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالا باغچی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ درخواست میں اہم آئینی اور عملی مسائل اٹھائے گئے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کا کوئی بھی نظام فوری طور پر آئندہ انتخابات میں نافذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کے لیے موجودہ قوانین میں تبدیلی، وسیع انتظامی تیاری اور مالی وسائل درکار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: جے پور: متنازع گلابی ہاتھی ’’چنچل‘‘ کی موت، سیاحتی استحصال پر نئی بحث

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئندہ انتخابات کے لیے اس تجویز پر عمل ممکن نہیں، لیکن مستقبل میں پارلیمانی یا ریاستی انتخابات کے لیے اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ درخواست اشوینی کمار اپادھیائے نے دائر کی تھی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ انتخابی نظام میں متعدد خامیاں موجود ہیں، جن میں نقالی، ڈپلیکیٹ ووٹنگ، گھوسٹ ووٹرز، رشوت اور غیر ضروری اثر و رسوخ جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان کے مطابق بایومیٹرک تصدیق، جیسے فنگر پرنٹ اور آئیرس اسکین، ان مسائل کے مؤثر حل کے طور پر سامنے آ سکتی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ابتدائی طور پر مشورہ دیا کہ درخواست گزار پہلے الیکشن کمیشن سے رجوع کریں، کیونکہ انتخابی اصلاحات کا بنیادی اختیار کمیشن کے پاس ہے۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس طرح کے کسی بھی نظام کے نفاذ کے لیے ریاستی حکومتوں کا تعاون اور مناسب بجٹ درکار ہوگا، جو ایک بڑا انتظامی چیلنج ہو سکتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ووٹر شناختی نظام، جو زیادہ تر ووٹر آئی ڈی کارڈز اور دستی تصدیق پر مبنی ہے، کئی کمزوریوں کا شکار ہے، جیسے پرانی تصاویر، شناختی غلطیاں اور حقیقی وقت میں تصدیق کی عدم موجودگی۔ اس کے برعکس، بایومیٹرک نظام ایک منفرد اور ناقابل منتقلی شناخت فراہم کرتا ہے، جو نقالی اور دوبارہ ووٹنگ کو روک سکتا ہے۔

مزید برآں، درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے ایک ڈجیٹل آڈٹ ٹریل بنایا جا سکتا ہے، جس سے انتخابی عمل کی نگرانی اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح کے ریکارڈ نہ صرف بے ضابطگیوں کی نشاندہی میں مدد دیں گے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مضبوط کریں گے۔ درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل ۳۲۴؍ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں کہ وہ انتخابی عمل کو بہتر بنانے کے لیے تکنیکی اصلاحات متعارف کرائے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ بایومیٹرک نظام کو آدھار جیسے موجودہ ڈجیٹل فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راجستھان حکومت کو سماجی بائیکاٹ جیسے واقعات سے نمٹنے کیلئے ٹھوس پالیسی کا حکم

یہ معاملہ اب ایک اہم قانونی اور پالیسی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں ایک طرف انتخابی شفافیت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب رازداری، ڈیٹا سیکوریٹی اور عملی نفاذ جیسے مسائل بھی زیر غور ہیں۔ سپریم کورٹ کی آئندہ سماعتیں اس بات کا تعین کریں گی کہ کیا ہندوستان کے انتخابی نظام میں اس بڑی تکنیکی تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے یا نہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK