سپریم کورٹ نے گجرات سومناتھ مندر کے قریب نان ویج کھانے کی دکانوں پر لگی پابندی ہٹانے سے انکار کر دیا، تاہم عدالت گجرات ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ معاملے میں جلد از جلد حتمی فیصلہ دے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 6:36 PM IST | Gandhinagar
سپریم کورٹ نے گجرات سومناتھ مندر کے قریب نان ویج کھانے کی دکانوں پر لگی پابندی ہٹانے سے انکار کر دیا، تاہم عدالت گجرات ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ معاملے میں جلد از جلد حتمی فیصلہ دے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے گجرات ہائی کورٹ کے عبوری حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا جس نے سومناتھ مندر کے ارد گرد غیر سبزی خور کھانے کی تیاری، فروخت اور ذخیرہ کرنے پر پابندی بحال کی تھی۔ریستوراں مالکان کی اس دلیل کے جواب میں کہ فیصلہ کاروبار کو ختم کر دے گا اور ملک کے۸۰؍ فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں، عدالت نے کہا کہ توازن برقرار رکھنا ہوگا اور وہ اس مرحلے پر کچھ نہیں کہے گی۔تاہم عدالت نےگجرات ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ معاملے میں جلد از جلد حتمی فیصلہ دے۔ہلکے پھلکے انداز میں، بنچ نے مزید کہا،’’روشنیوں کا تہوار (دیوالی) مٹھائیاں کھا کر منائیں۔ ویج یا نان ویج کو ایک طرف چھوڑ دیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’حراست میں لینے کے ۲۴؍ گھنٹے کے اندر پیشی ضروری ہے‘‘
واضح رہے کہ یہ معاملہ گجرات میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے۱۰؍ اگست کو جاری کردہ نوٹیفکیشن سے متعلق ہے۔ نوٹیفکیشن نے مخصوص علاقوں میں دکانوں، ریستوراں، ہوٹلوں اور سڑک کنارے اسٹال پر غیر سبزی خور کھانے کی تیاری، فروخت اور ذخیرہ کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ اس میں سات مخصوص حصے اور علاقے شامل تھے، جن میں سومناتھ مندر کے۵۰۰؍ میٹر کے اندر تمام علاقے شامل تھے۔علاقے کے ریستوراں مالکان نے گجرات ہائی کورٹ کے سامنے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ کے سنگل جج بنچ نے ابتدائی طور پر۳۰؍ اکتوبر کو ان کی درخواست کو قبول کیا، جس پر گجرات حکومت نے اسی دن اپیل دائر کی۔ریاست نے دلیل دی کہ تہوار کی مدت کے دوران مخصوص علاقوں میں گوشت، مچھلی اور غیر سبزی خور پکوانوں کی اجازت دینا عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔اپیل کے جواب میں، ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے سنگل جج کے حکم کے پاس ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی اس پر روک لگا دی اور نان ویج پابندی کو بحال کر دیا۔
بعد ازاں نان ویج پابندی کو چیلنج کرنے والے ریستوراں مالکان کی نمائندگی کرتے ہوئے، سینئر ایڈوکیٹ حزیفہ احمدی نے کہا،’’اس ملک کے۸۰؍ فیصد لوگ غیر سبزی خور ہیں۔ ہم اتنے انتہائی حساس کیوں ہو رہے ہیں کہ ریاست ایسے احکامات پاس کر رہی ہے؟ مستقل پابندیاں عجیب ہیں۔ ہمارا فلسفہ رواداری سکھاتا ہے۔ ہمارا آئین رواداری سکھاتا ہے... آپ غذائی عادت کو مجبور نہیں کر سکتے۔‘‘انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پابندی ہٹانے والے سنگل جج کے حکم پر ڈویژن بنچ نے اس کے پاس ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی روک لگا دی، یہاں تک کہ سنگل جج کا حکم مطالعے کے لیے دستیاب ہونے سے پہلے ہی۔انہوں نے کہا، ’’کیا ایسی جلدی تھی۔ ہم گزشتہ۴۰؍ سالوں سے کھانے کی دکانیں چلا رہے ہیں۔‘‘ تاہم ریستوراں مالکان کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے، سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ چند ہفتوں میں معاملے کی سماعت کے لیے مقرر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گوالیار: مدرسہ دارالقرآن کو سیل کردیا گیا، رہائشی سہولتوں میں کمی کا الزام
انہوں نے کہا، ’’ہائی کورٹ نے اسے۲۵؍ نومبر کو سماعت کیلئے رکھا ہے۔۔۲۰۱۸ء میں یہ مندر سے ۵۰۰؍میٹر کا دائرہ تھا۔ اس کے بعد، حکومت نے ایک کوریڈور فراہم کیا ہے۔ انہیں سبزی خور کھانا پیش کرنے کی اجازت ہے۔‘‘مزید برآں احمدی نے زور دیا کہ غذا ذاتی پسند کا معاملہ ہے۔یہ (نان ویج پابندی) مکمل طور پر کاروبار کو ختم کر رہی ہے۔جس کے بعد عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ایسے معاملات میں توازن کی ضرورت ہے۔اس نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ایک آئینی بنچ مذہبی آزادیوں (آئین کے آرٹیکل۲۵؍ اور۲۶؍ کے تحت) اور دیگر بنیادی حقوق کے درمیان تعامل کے بارے میں بڑے سوالات پر ایک معاملے میں اپنا فیصلہ دینے والی ہے۔
عدالت نے کہا، "امید ہے کہ آرٹیکل۲۵؍ پر ہمارا فیصلہ جلد آئے گا۔ اس کا اس پر خاطر خواہ اثر پڑے گا۔‘‘تاہم اعلیٰ عدالت نے ہائی کورٹ کو ہدایت دے کر درخواست کو بند کر دیا کہ وہ معاملے کا بروقت فیصلہ کرے۔