• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈگری کی شناخت غیر یقینی: مانو (MANUU) کے شعبہ ہیلتھ کیئر کے طلبہ کے احتجاج کا ۱۷ واں دن

Updated: November 06, 2026, 7:03 PM IST | Hyderabad

چوتھے سال میں زیر تعلیم طالب علم سیف معراج نے کہا کہ رجسٹریشن کے بغیر طلبہ نہ تو اسپتالوں میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی مزید تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ بہار کے ایک کسان گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ ان کے والد نے ان کی تعلیم کیلئے ادھار لیا اور بعد میں زمین فروخت کی۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر ان کی ڈگری قبول نہ کی گئی تو شاید ان کے چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھنے کی اجازت نہ ملے۔

Picture: X
تصویر: ایکس

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) میں شعبہ حفظانِ صحت کے طلبہ کا احتجاج جاری ہے جو اپنی ڈگری، پیشہ ورانہ رجسٹریشن اور شناخت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ہیلتھ کیئر کی اسناد کی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبہ کا غیر معینہ مدت کیلئے یہ احتجاج ۲۱ اکتوبر کو شروع ہوا تھا جو گزشتہ ۱۷ دنوں سے یونیورسٹی کی انتظامی عمارت کے باہر جاری ہے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ میڈیکل لیباریٹری ٹیکنالوجی، میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجی اور ایمرجنسی اینڈ ٹراما کیئر ٹیکنالوجی کے بی ووک (B.Voc) اور ایم وووک (M.Voc) پروگرامز میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ مسئلہ الائیڈ اینڈ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے ریگولیٹری ادارے، نیشنل کمیشن فار الائیڈ اینڈ ہیلتھ کیئر پروفیشنز (NCAHP) کے گرد گھومتا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ قابلیت کی نئی فہرست میں ان کی بی ووک اور ایم ووک ڈگریوں کے نام غائب ہیں۔ اس صورتحال نے انہیں رجسٹریشن، اسپتالوں کی ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’چکا جام احتجاج‘ سے پونے بنگلور ہائی وے پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر

یو جی سی (UGC) نے ۲۰۱۸ء میں بی ووک پروگرامز کی منظوری دی تھی جس کے بعد مانو نے ۲۰۱۹ء میں ان کورسیز کو شروع کیا تھا۔ یہ این سی اے ایچ پی (NCAHP) ایکٹ ۲۰۲۱ء کی منظوری سے پہلے کا وقت تھا۔ ۲۰۲۲ء میں، تلنگانہ اسٹیٹ پیرامیڈیکل بورڈ نے یونیورسٹی سے طلبہ کو رجسٹریشن کیلئے بھیجنے کو کہا تھا۔ لیکن اگست ۲۰۲۶ء میں یو جی سی کے ایک نوٹیفکیشن میں الائیڈ ہیلتھ کی نئی ڈگریوں کی فہرست جاری کی گئی جس میں بی ووک اور ایم ووک کے نام شامل نہیں تھے۔

طلبہ کے خدشات

چوتھے سال میں زیر تعلیم طالب علم سیف معراج نے کہا کہ رجسٹریشن کے بغیر طلبہ نہ تو اسپتالوں میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی مزید تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ بہار کے ایک کسان گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ ان کے والد نے ان کی تعلیم کیلئے ادھار لیا اور بعد میں زمین فروخت کی۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر ان کی ڈگری قبول نہ کی گئی تو شاید ان کے چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھنے کی اجازت نہ ملے۔ طلبہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ایمس (AIIMS) کلیانی میں ملازمت کیلئے منتخب ہونے والے ایک سابق طالب علم کو بعد میں بتایا گیا کہ بی وووک کی ڈگری اس ملازمت کیلئے اہل نہیں ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا سومناتھ مندر کے قریب نان ویج ہوٹلوں پر لگی پابندی ہٹانے سے انکار

یونیورسٹی کا ردِعمل

یونیورسٹی نے عبوری (provisional) رجسٹریشن کی پیشکش کی، جسے بعد میں مستقل کیا جا سکتا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے، کیونکہ وہ مستقل رجسٹریشن اور ڈگری کے ناموں کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ۲۶ اکتوبر کو وائس چانسلر نے اس معاملے کا جائزہ لینے کیلئے چار ڈینز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی تحریری طور پر کچھ نہیں ملا ہے۔ طلبہ نے کلاسیز اور انٹرن شپ کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ وہ واضح ٹائم لائن کے ساتھ تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK