Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمعیۃ علماء کا ہندو مسلم اتحاد اور باہمی اخوت کے فروغ کو مشن کے طور پر اپنانے پر زور

Updated: August 31, 2026, 4:06 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

تربیتی اجلاس میں نفرت کو پیار ومحبت اور بھائی چارے میں تبدیل کرنے کا عہد۔ سیاسی لیڈران کو اسٹیج سے دور رکھنے کی ہدایت۔ کہا: علاقے کی سطح پر منعقد کئے جانے والے پروگراموں میں برادران وطن کی بڑی تعداد میں شرکت کو یقینی بنایا جائے۔

Maulana Syed Arshad Madni. Picture: INN
مولانا سید ارشد مدنی۔ تصویر: آئی این این

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے تربیتی اجلاس میں تنظیمی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے ساتھ ملک کے موجودہ مخدوش حالات میں باہمی اخوت، ہندو مسلم اتحاد اور سماجی خدمت پر خصوصی زور دیا گیا تاکہ ملک کے مخدوش حالات اور مسموم فضا کو تبدیل کرکے خوشگوار بنایا جاسکے۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے تربیتی اجلاس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا انعقاد جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے کیا جارہا ہے۔  اس ضمن میں جمعیۃ کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر مرکزی مجلسِ عاملہ کے ۴؍ ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی برائے ہندو مسلم اتحاد و باہمی اخوت تشکیل دی گئی ہے جس کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی ( نائب صدر جمعیۃ علماء ہند) ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: من کی بات: وزیراعظم نے ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں مددگار کوششوں کا ذکر کیا

یہ فورم کیسے کام کرے گا؟

جمعیۃ کے عہدیدار مولانا سید اشہد رشیدی نے ہندو مسلم اتحاد کے تعلق سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس فورم کے تحت منعقد ہونے والے پروگراموں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ مثلاً اگر کسی پروگرام میں۱۰۰؍ افراد ہی شریک ہوں تو کم از کم ۵۰؍  افراد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے  ہوں تاکہ باہمی تعارف، مکالمے اور اخوت کا ماحول پیدا ہو۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے پروگرام بڑے میدانوں یا بڑے اجتماعات کی شکل میں منعقد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ہندو مسلم اتفاقِ رائے سے منعقد کئے جائیں۔ پروگرام کے اسٹیج پر سیاسی شخصیات کو مدعو نہ کیا جائے بلکہ برادرانِ وطن میں سنجیدہ، باشعور اور سماجی میدان میں فعال افراد کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی جائے۔

’’عصر حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے‘‘

ہندو مسلم اتحاد کمیٹی کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی نے شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی  ؒ کے تاریخی موقف ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں، مذاہب سے نہیں‘‘ کو عصرِ حاضر کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی تشریح کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اس لئے بلا تفریق ِ مذہب و ملت مظلوموں، مجبوروں اور  بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا جمعیۃ علماء کا روزِ اول سے بنیادی مشن رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمعیۃ علماء کے اسی مشن پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوئے دلوں کو جیتا جاسکتا ہے اور ملک کی مسموم فضا کو محبت، اعتماد اور باہمی اخوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی جمعیتوں کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ ضلعی اور ریاستی سطح کی جمعیتوں کا کام نگرانی، رہنمائی اور سرپرستی کرنا ہے۔مولانامدنی کی ہدایت پر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے تمام شرکائے اجلاس سے عہد لیا کہ وہ  مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کے بینر تلے برادرانہ اخوت، ہندو مسلم اتحاد، باہمی اعتماد اور خدمت ِ خلق کے اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلم دکاندار کی حمایت، دیپک کمار کے خلاف ایف آئی آر پر سپریم کورٹ کی روک

اس مشن کے دو مراحل ہیں

ہندو مسلم اتحاد کیلئے دو مراحل میں کام کیا جائے گا۔ اوّل جمعیۃ کے عہدیداران کی تربیت اور ان کو تیار کرنا۔ دوسرے جمعیۃ کی جانب سے یہ محسوس کیا گیا کہ قومی یکجہتی کے حوالے سے ملک بھر میں کئے گئے بڑے بڑے اجتماعات اور کانفرنسوں کے ذریعے اس طرح کے نتائج برآمد نہیں ہوئے جس کی توقع تھی۔ اسی لئے اس ترتیب کو بدل کر اب ضلع، شہر ، قصبہ اور گاؤں کی سطح پر چھوٹے چھوٹے پرو گراموں کے ذریعے اس میں برادران وطن کی شرکت لازمی کرتے ہوئے اس کو موثر بنانے کی جانب قدم بڑھایا جارہا ہے تاکہ نفرت کا محبت اور بھائی چارے کے ذریعے خاتمہ ہو اور ملک میں امن وآشتی کی فضا کو استحکام مل سکے۔

  مولانا حلیم اللہ قاسمی سے نمائندہ انقلاب کے یہ پوچھنے پر کہ کب سے یہ کام شروع ہوگا، تاریخ کا تعین کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’’نہیں ، تاریخ تو متعین نہیں ہے مگر پہلے مرحلے میں جمعیۃ کے کارکنان کی  تربیت کا کام تیزی سے جاری ہے، یوپی کے کچھ اضلاع امبیڈکر نگر ، بجنور وغیرہ میں ہوچکا ہے، بہار اور جھارکھنڈ اور مہاراشٹر میں پورا کرلیا گیا ہے۔ جو ریاستیں باقی ہیں، وہاں مکمل کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ گاؤں ، دیہات، قصبات اور شہروں میں چھوٹے اجلاس کا شروع ہوگا لیکن دوسرے مرحلے کے باضابطہ آغاز سے قبل  تربیتی پروگرام مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ  مقامی یونٹیں اپنے طور پر برداران وطن سے ملاقاتیں اور روابط استوار کرنا شروع کردیں گی۔ 

اس موقع پر ریاستی جمعیۃ کے جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی نے اجلاس کے اغراض ومقاصد بیان کئے جبکہ ریاست بھر سے عہدیدران اور اراکین نے اجلاس میں شرکت کی اور اس کار خیر میں اپنا ہرممکن تعاون پیش کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK