Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ نے تمل ناڈو میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگانے والے مدراس ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگائی

Updated: July 13, 2026, 6:05 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ، تمل ناڈو کی ٹی وی کے حکومت کی جانب سے دائر کردہ اسپیشل لیو پٹیشن پر سماعت کر رہی تھی جس میں ہائی کورٹ کے ۲۷ مئی کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے دلیل دی کہ مدراس ہائی کورٹ کا حکم ”عدالتی قانون سازی“ کے مترادف ہے اور اندرونی طور پر تضادات سے بھرپور ہے۔

Supreme Court. Photo: X
سپریم کورٹ۔ تصویر: ایکس

سپریم کورٹ نے ۱۳ جولائی کو مدراس ہائی کورٹ کے ایک حکم پر روک لگا دی ہے جس میں تمل ناڈو حکومت کو پوری ریاست میں گائے اور بچھڑوں کو ذبح کرنے پر پابندی لگانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ نے مشاہدہ کیا کہ پہلی نظر میں ہائی کورٹ کی اس ہدایت کو ”درستگی“ کی ضرورت ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ وزیر اعلی وجے کی قیادت والی ٹی وی کے حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اسپیشل لیو پٹیشن پر سماعت کر رہی تھی، جس میں ہائی کورٹ کے ۲۷ مئی کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس اپیل پر نوٹس جاری کیا اور ہائی کورٹ کے حکم کے اس حصے پر روک لگا دی جس میں ریاست میں گائے ذبح کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: گیان واپی، متھرا، سنبھل تنازعات میں ہندو اور مسلم فریقین نے سپریم کورٹ کی تصفیے کی تجویز مسترد کردی

تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے دلیل دی کہ مدراس ہائی کورٹ کا حکم ”عدالتی قانون سازی“ کے مترادف ہے اور اندرونی طور پر تضادات سے بھرپور ہے۔ ریاست نے واضح کیا کہ ’تمل ناڈو اینیمل پریزرویشن ایکٹ ۱۹۵۸ء‘ ۱۰ سال سے زیادہ عمر کی گایوں کو ذبح کرنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ انہیں کام اور افزائشِ نسل کیلئے ناکارہ قرار دے دیا جائے۔ ریاست نے مزید عرض کیا کہ ’پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ ۱۹۶۰ء‘، ’پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز (سلاٹر ہاؤس) رولز ۲۰۰۱ء‘ اور ’تمل ناڈو اربن لوکل باڈیز ایکٹ ۱۹۹۸ء‘ جیسے قوانین ذبیحہ پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کرتے بلکہ ان شرائط کو باقاعدہ بناتے ہیں جن کے تحت یہ عمل کیا جا سکتا ہے۔ ریاست نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ مدراس ہائی کورٹ نے خود یہ درست مشاہدہ کیا تھا کہ ذبح کا عمل صرف مقررہ ذبح خانوں (سلاٹر ہاؤسیز) میں ہی ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس پر مکمل پابندی لگانے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔ تمل ناڈو حکومت نے ہائی کورٹ کے اس موقف کو متضاد قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: بیشتر سرکاری اسکول میں طلبہ سہولیات سے محروم

پوری ریاست میں گایوں کو ذبح کرنے پر پابندی لگانے کا حکم جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور جسٹس وی لکشمی نارائنن کے ڈویژن بینچ نے کوئمبٹور کے رہائشی کے سوریا کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست پر جاری کیا تھا، جس نے الزام لگایا تھا کہ مقامی حکام نے ۲۸ مئی ۲۰۲۶ء کو عید الاضحیٰ سے قبل غیر نامزد مقامات پر گائے ذبح کرنے کی اجازت دی تھی۔ ہائی کورٹ نے چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس تاریخ کو یا اس کے بعد تمل ناڈو میں کہیں بھی کوئی گائے یا بچھڑا ذبح نہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK