Inquilab Logo Happiest Places to Work

غربت سے تنگ خاتون سلمان خان کی تلاش میں ممبئی پہنچی، این جی او نے سہارا دیا

Updated: July 13, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

غربت اور امید کے سہارے آسام سے ممبئی پہنچنے والی ایک ۵۵؍ سالہ خاتون( جیوتسنا بیگم ) سلمان خان کی تلاش میں شہر کی سڑکوں پر بھٹکنے لگی، جہاں ایک این جی او نے بروقت انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ علاج اور دیکھ بھال کے بعد خاتون کو بحفاظت ان کے اہل خانہ سے دوبارہ ملا دیا گیا۔

Salman Khan and Jyotsna Begum who were rescued by an NGO and returned to their families in Assam. Photo: INN
سلمان خان اورجیوتسنا بیگم جنہیں ایک این جی او نے ریسکیو کیا او ر دوبارہ آسام اہل خانہ کے پاس بھیج دیا۔ تصویر: آئی این این

ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے رضاکاروں نے۵۵؍ سالہ جیوتسنا بیگم کو اس وقت بچا لیا جب وہ باندرہ کے کارٹر روڈ پر ذہنی طور پر پریشان حالت میں لوگوں سے اداکار سلمان خان کے گھر کا پتہ پوچھتی ہوئی ملی۔ جیوتسنا بیگم آسام سے ممبئی صرف اس لئے آئی تھیں کہ وہ ہندی فلموں کے معروف اداکار سلمان خان سے مل سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہیں پڑھا تھا کہ سلمان خان اپنے ضرورت مند مداحوں کی مدد کرتے ہیں۔ سوشل اینڈ ایوینجلیکل اسوسی ایشن فار لو (SEAL) کے بانی پادری کے ایم فلپ نے بتایا کہ تنظیم کے رضاکار بے گھر اور لاوارث افراد کی امداد کیلئے جاری سالانہ مون سون ریسکیو مہم کے دوران ان پر نظر پڑی۔

یہ بھی پڑھئے: سیاستداں اتحاد کا ہنر ان سے سیکھیں:شیکھر سمن کا عامر خان کی تیسری شادی پر طنز

انہوں نے کہا، ’’ہم نے دیکھا کہ جیوتسنا بیگم باندرہ میں لوگوں سے سلمان خان کا پتہ پوچھ رہی تھیں۔ انہیں پورا یقین تھا کہ سلمان خان ان کی مالی مدد کریں گے۔ آسام سے ممبئی پہنچنے کے بعد وہ ذہنی طور پر الجھن کا شکار ہوگئیں اور شہر میں راستہ بھول گئیں۔ ‘‘سیل آشرم میں مشاورت کے دوران جیوتسنا بیگم، جو گوہاٹی کے قریب رہتی ہیں، نے سماجی کارکنوں کو بتایا کہ ان کا خاندان شدید غربت کا شکار ہے اور وہ اکیلے ہی اپنے بچوں کی کفالت کرتی ہیں۔ ایک سماجی کارکن کے مطابق، ’’ان کیلئے امید کی واحد کرن سلمان خان تھے، کیونکہ انہوں نے ایک خبر میں پڑھا تھا کہ سلمان خان نے ایک غریب شخص کی مالی مدد کی تھی۔ ممبئی میں کسی بھی جان پہچان یا رابطے کے بغیر، انتہائی محدود رقم کے ساتھ، وہ تنہا سفر کرکے ممبئی پہنچ گئیں۔ انہیں صرف اتنا معلوم تھا کہ سلمان خان باندرہ کے کسی علاقے میں رہتے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: مانسون کی مناسب تیاری نہ ہونے کا بی ایم سی میٹنگ میں اعتراف

کے ایم فلپ نے بتایا، ’’ہم نے اپنے شیلٹر ہوم میں ان کا طبی علاج کرایا اور مکمل صحت یاب ہونے کے بعد انہیں ان کے اہل خانہ سے آسام میں دوبارہ ملا دیا۔ ‘‘جیوتسنا بیگم ان۵۱؍ بے سہارا افراد میں شامل تھیں جنہیں مون سون ریسکیو مہم کے دوران سڑکوں سے بچا کر مزید دیکھ بھال کیلئے پنویل میں واقع سیل آشرم منتقل کیا گیا۔ ان۵۱؍ افراد میں سے ۱۲؍کو، جن میں جیوتسنا بیگم بھی شامل تھیں، ان کے اہل خانہ سے دوبارہ ملا دیا گیا۔ سیل کے چیف پیٹرن اور ریاستی اقلیتی کمیشن کے سابق نائب چیئرمین ابراہم متھائی نے کہا، ’’ریاستی حکومت کو بھی ایسے فلاحی کام انجام دینے والی این جی اوز کی ہر ممکن مدد کرنی چاہئے۔ ‘‘کے ایم فلپ نے مزید بتایا کہ تنظیم پنویل کیمپس میں ایک اسپتال تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ریسکیو کئے گئے مریضوں کا بہتر انداز میں علاج کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: دھاراوی کو جہنم کہنے پر وزیراعلیٰ کے خلاف آج احتجاج اور حکومت کو میمورنڈم

انہوں نے کہا، ’’کئی مرتبہ نجی اسپتال ہمارے ایسے مریضوں کو داخل کرنے سے انکار کر دیتے ہیں جن کے زخموں میں کیڑے پڑ چکے ہوں یا جو تپِ دق (ٹی بی) جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ اسپتال سے آس پاس کے غریب دیہاتیوں کو بھی معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK