ترکی میں سیزیرین آپریشنز کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کیلئےحکومت نے سخت اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ اس مہم کے تحت۱۰۰؍ سے زائد ماہرینِ امراضِ نسواں و زچگی کو جرمانوں، معطلی اور لازمی تربیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 5:08 PM IST | Ankara
ترکی میں سیزیرین آپریشنز کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کیلئےحکومت نے سخت اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ اس مہم کے تحت۱۰۰؍ سے زائد ماہرینِ امراضِ نسواں و زچگی کو جرمانوں، معطلی اور لازمی تربیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ترکی کی وزارتِ صحت نے سیزیرین (سی سیکشن) آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کرانے پر۱۰۰؍ سے زائد ماہرینِ امراضِ نسواں و زچگی (Obstetrician-Gynaecologists) پر جرمانے عائد کئے ہیں، انہیں معطل کر دیا گیا ہے اور لازمی تربیتی کورسیز میں شرکت کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بات سنیچرکو شائع ہونے والے اخبار برگون نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔ ۲۰۲۳ء کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (OECD) کے ۳۸؍رکن ممالک میں ترکی میں سیزیرین کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس سال ہر ایک ہزار زندہ پیدائشوں میں تقریباً۶۱۵؍ بچے سیزیرین آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: بینکاک کے ایک بار میں آگ لگنے سے کم از کم ۲۷؍ افرادہلاک، ۸؍ کی حالت سنگین
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیزیرین آپریشن طبی عملے کیلئےوقت کی بچت کا ذریعہ ہے، کیونکہ یہ تقریباً۳۰؍ منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ قدرتی زچگی میں ۱۲؍گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیچیدگیوں کی صورت میں قانونی کارروائی کے خدشات بھی کم ہو جاتے ہیں، جس سے ڈاکٹر اور مریضہ دونوں کیلئے نسبتاً زیادہ تحفظ یقینی ہوتا ہے۔ گزشتہ سال صدر رجب طیب اردگان کے ’’خاندان کی دہائی‘‘ (Decade of the Family) اقدام کے تحت ترک حکومت نے ملک میں گرتی ہوئی شرحِ پیدائش سے نمٹنے کیلئے ایک مہم شروع کی، جس کے تحت خواتین کی زچگی کے طریقۂ کار پر بھی زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صدر اردگان، جو قدرتی زچگی کے حامی ہیں، ترکی میں مرضی سے کرائے جانے والے سیزیرین آپریشنز کی ریکارڈ تعداد کم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے اپریل ۲۰۲۵ءمیں نجی اسپتالوں میں طبی ضرورت کے بغیر سیزیرین آپریشن کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اخبار برگون کے مطابق، ملک بھر کی طبی تنظیموں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر۱۰۰؍ سے زائد ڈاکٹروں پر سیزیرین آپریشن کرنے کے باعث جرمانے عائد کئے گئے ہیں، جس پر طبی برادری کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ انطالیہ چیمبر آف فزیشنز نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ماہرینِ امراضِ نسواں و زچگی کو ملک میں سیزیرین کی بلند شرح کی بنیاد پر انتباہی نوٹس جاری کئے گئے، ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کی گئیں، انہیں عارضی طور پر طبابت سے معطل کیا گیا اور قبل از پیدائش تربیتی کورسیز میں شرکت پر مجبور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: حملوں کے بعدایران سخت، آبنائے ہرمز پھر بند
دوسری جانب دیکن نیوز ویب سائٹ نے استنبول کے قریب سقاریا کے ایک نجی اسپتال میں خدمات انجام دینے والے ایک ماہرِ امراضِ نسواں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ صحت کی درخواست پر انہیں سیزیرین کی زیادہ شرح کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جس کے بعد انہیں چھ ماہ کیلئے معطل بھی کر دیا گیا۔