• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناروے میں کم عمروں کی بڑی تعداد اپناسوشل میڈیا وقت کم کرنا چاہتی ہے: سروے

Updated: February 27, 2026, 8:10 PM IST | Oslo

ایک سروے کے مطابق ناروے میں کم عمربچوں کی بڑی تعداد اپنا سوشل میڈیا وقت کم کرنے کی خواہاں ہے، سروے میں حصہ لینے والوں میں سے ۳۸؍ فیصد کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنا بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں، جبکہ ۳۰؍ فیصد نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا چاہتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے کی رپورٹ کے مطابق، ناروے کی میڈیا اتھارٹی کی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سروے میں شامل۳۸؍ فیصد بچوں اور نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، جبکہ۳۰؍ فیصد اس کا استعمال کم کرنا چاہتے ہیں۔۹ ؍سے ۱۸؍ سال کی عمر کے۱۷۵۰؍ نوجوانوں پر کیے گئے اس سروے میں بتایا گیا کہ سال۲۰۲۴ء میں کیے گئے گزشتہ سروے کے مقابلے میں اپنے سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں فکر مند افراد کی تعداد میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سی آئی اے نے فارسی ویڈیو میں ایرانیوں سے خفیہ معلومات شیئر کرنے کی اپیل کی

تاہم ناروے کی میڈیا اتھارٹی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایپلی کیشنز کے افعال اور ڈیزائن لاگ آؤٹ کرنا مشکل یا ناممکن کیوں بنا دیتے ہیں۔ محقق ہینرک ہوگ سیٹرا کا کہنا ہے کہ بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم صارفین کوزیادہ سے زیادہ  مصروف رکھنے کیلئے وقف ماہرین مقررکرتے ہیں۔ اوسلو میٹ یونیورسٹی کی محقق کیملا اسٹائنس نے این آر کے کو بتایا، اسے دیگر چیزوں کے علاوہ نشہ آور ڈیزائن بھی کہا جاتا ہے۔‘‘انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں خود بھی لاگ آؤٹ کرنا مشکل لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی، تفریحی ویڈیوز صارفین کو مصروف رکھنے اور اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کے ساتھ سماج سے  تعلق کا احساس پیدا کرتی ہیں۔اسٹائنس نے مزید کہا، ’’اگر آپ لاگ آؤٹ کرتے ہیں تو کچھ چھوٹ جانے کا ڈر بڑھ جاتا ہے۔ یہ فون کو دور رکھنا مشکل بنا دیتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یوکے: گورٹن ضمنی انتخاب: گرین پارٹی کی اردو مہم پر سیاسی ہنگامہ

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ۲۸؍ فیصد جواب دہندگان اس بات سے متفق ہیں کہ سوشل میڈیا ان کی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ ہے۔واضح رہے کہ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کے ممالک نابالغوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود یا ممنوع قرار دینے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK