• Sat, 29 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اگلے عشرے میں جوہری جنگ کا خدشہ، امریکہ بھی اس کا حصہ ہوگا: سروے

Updated: November 29, 2025, 5:10 PM IST | Washington

امریکہ میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً نصف امریکیوں کا کہنا ہے کہ اگلے عشرے میں جوہری جنگ کا خدشہ ہےاور امریکہ بھی اس کا حصہ ہوگا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکہ میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً نصف امریکیوں کا کہنا ہے کہ اگلے عشرے میں جوہری جنگ کا خدشہ ہےاور امریکہ بھی اس کا حصہ ہوگا۔ بدھ کو جاری ہونے والا ’’ یو گو‘‘ سروے  آن لائن ۳۰؍ اکتوبر سے ۲؍ نومبر کے درمیان کیا گیا تھا۔ اس سروے میں ۱۱۴۸؍ بالغ امریکیوں نے حصہ لیا ، اور اپنی آراء پیش کی۔اس سروے میں شامل۴۶؍ فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ اگلی دہائی میں امریکہ کی شمولیت والی کوئی جوہری جنگ ’’بہت‘‘ یا ’’کسی حد تک‘‘ ممکن ہے۔ جبکہ ۳۷؍ فیصد نے اسے غیر ممکن قرار دیا۔ ۵۷؍فیصد ڈیموکریٹس میں جوہری جنگ کے امکانات کو لے کر تشویش پائی گئی۔ جبکہ ۳۷؍ فیصد ریپبلکن نے اسی قسم کےخدشات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے: جی ۲۰؍اجلاس میں نہ بلانے کےاعلان پر جنوبی افریقہ برہم

اس کے علاوہ سروے میں شامل۶۹؍ فیصد افراد کا ماننا تھا کہ جوہری ہتھیار دنیا کو ’’زیادہ خطرناک جگہ‘‘ بنا رہے ہیں، جبکہ صرف۹؍ فیصد نے انہیں محفوظ قرار دیا ۔۴۴؍  فیصد کا خیال تھا کہ اگلے دس سالوں میں دہشت گرد یا مجرم امریکہ میں جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔۵۲؍ فیصد نے کہا کہ جوہری جنگ کے امکانات آج سے دس سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جرمنی: ۷۵؍ فیصد شہری چانسلر سے ناخوش، ناپسندیدگی ۷۷؍ فیصد

واضح رہے کہ امریکی اس سوال پر منقسم نظر آئے کہ آیا جوہری ہتھیاروں نے انہیں محفوظ بنایا ہے، اس سوال پر ۳۳؍ فیصد افراد کا کہنا تھا کہ امریکی جوہری ہتھیاروں کے سبب وہ خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں، جبکہ ۲۶؍ فیصد افراد نے کہا کہ وہ خود کو نسبتاً غیر محفوظ خیال کرتے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی پالیسی کے تعلق سے پوچھے گئے سوال پر ۵۶؍ فیصد کا موقف تھا کہ امریکہ کو جوہری ہتھیار صرف جوابی حملے میں استعمال کرنے چاہئیں، جبکہ۲۱؍ فیصد نے کہا کہ انہیں کبھی نہیں استعمال کرنا چاہیے۔ اکثریت نے شمالی کوریا، روس، چین اور پاکستان کے پاس جوہری ہتھیاروں پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ تقریباً نصف امریکیوں نے خود امریکی جوہری ذخیرے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK