Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک ’ایچ ون بی‘کارکن۱۰؍ غیر قانونی تارکین کے برابر، ہندوستانی ٹیک ورکرز کو واپس بھیجا جائے: سروے

Updated: December 12, 2025, 10:08 PM IST | Washington

امریکہ کے ایک سروے کے مطابق عوام کا یہ موقف ہے کہ ایک ’ایچ ون بی ‘ ویزاکا حامل کارکن۱۰؍ غیر قانونی تارکین کے برابر ہے، اسی کے ساتھ ہندوستانی ٹیک ورکز کو واپس بھیجنے کے رجحان بھی سروے سے عیاں ہو رہا ہے،امریکی مبصر مارک مچل کا کہنا ہے کہ امریکی کارکنوں کو غیر ملکی کارکنوں سے بدل دیا گیا ہے کیونکہ وہ امریکی کارکنوں کے مقابلے میں سستے ہیں۔

American commentator Mark Mitchell. Photo: X
امریکی مبصر مارک مچل۔ تصویر: ایکس

امریکہ کے ایک سروے کے مطابق عوام کا یہ موقف ہے کہ ایک ’ایچ ون بی ‘ ویزاکا حامل کارکن۱۰؍ غیر قانونی تارکین کے برابر ہے، اسی کے ساتھ ہندوستانی ٹیک ورکز کو واپس بھیجنے کے رجحان بھی سروے سے عیاں ہو رہا ہے،امریکی مبصر مارک مچل کا کہنا ہے کہ امریکی کارکنوں کو غیر ملکی کارکنوں سے بدل دیا گیا ہے کیونکہ وہ امریکی کارکنوں کے مقابلے میں سستے ہیں۔راسموسن رپورٹس کے سی ای او مچل نے یہ بات اسٹیو بینن کے پروگرام ’’وار روم‘‘ کے دوران کہی، جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سابق  مشیر اور ماگا(MAGA) تحریک کی اہم آواز ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: گھانا کے شہریوں سے اسرائیل میں بد سلوکی، گھانا نے اسرائیلی شہریوں کو ملک بدر کیا

دریں اثناء پروگرام میں انہوں نے ہندوستانی ٹیک کارکنوں اور ایچ-ون بی پروگرام کو نشانہ بنایا اور ٹرمپ انتظامیہ پر ایچ-ون بی ویزا ہولڈرز کو واپس نہ بھیجنے کا الزام لگایا۔مچل نے کہا، ’’ہر ایک ایچ-ون بی، آپ جانتے ہیں، ایپل کا سینئر ڈویلپر جسے ہم واپس بھیجتے ہیں، وہ معاشی طور پر شاید دس غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے برابر ہے۔ تو مجھے نہیں معلوم کہ ہم نے یہ کام کل کیوں نہیں کیا۔ اور خیال یہ ہے کہ، ہاں، ان میں سے بہت سے لوگ انٹری لیول پر ہیں، لیکن ان میں سے بہت سارے کروڑوں کماتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ سیلیکون ویلی کی ٹیک کمپنیاں کم لاگت کی لیبر کے لیے نقل مکانی کرنے والے کارکنوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں اور امریکی کارکنوں کو ملازمت نہیں دیتیں۔

یہ بھی پڑھئے: کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی تنازع کے درمیان تھائی پارلیمنٹ تحلیل، وزیر خارجہ کی روبیو سے گفتگو

مچل کے مطابق، تقریباً ۹۰؍ ہزار ڈالر سالانہ کمانے والا ایک ایچ-ون بی کارکن،۹؍ ڈالر فی گھنٹہ کمانے والے دس غیر دستاویزی کارکنوں کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہتیسری دنیا کے انجینئر آسانی سے امریکی کارکنوں کی جگہ لے سکتے ہیں، کیونکہ امریکیوں کو اپنے خاندانوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے اور ان کی صحت کا انشورنس زیادہ مہنگا ہوتا ہے، لہٰذا وہ کم تنخواہ پر ملازمت نہیں کرسکتے۔
واضح رہے کہ حالیہ اعداد و شمار کے حوالے سے دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلیکون ویلی میں پیدا ہونے والے پیشہ ور افراد تقریباً ۶۶؍فیصدٹیک نوکریوں پر قابض ہیں، اور ان میں سے ۲۳؍فیصدہندوستانی اور ۱۸؍ فیصد چینی شہری ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK