سویڈن حکومت نے مجرمانہ ذمہ داری کی عمر مزید کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے ،جس کی رو سے ۱۳؍ سال کے بچوں کوسنگین جرائم کیلئے قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 2:29 PM IST | Stockholm
سویڈن حکومت نے مجرمانہ ذمہ داری کی عمر مزید کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے ،جس کی رو سے ۱۳؍ سال کے بچوں کوسنگین جرائم کیلئے قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
سویڈش حکومت نے مجرمانہ ذمہ داری کی عمر کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت۱۳؍ سالہ فرد کو انتہائی سنگین جرائم بشمول قتل، شدید بم دھماکے، سنگین ہتھیاروں کے جرائم اور عصمت دری کے الزامات میں قید کی سزا دی جا سکے گی۔سویڈش روزنامے ڈیگنس نیہیٹر کے مطابق، وزیر انصاف گنار اسٹرومر نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ قانون جولائی سے نافذ العمل ہوگا اور ابتدائی طور پر پانچ سال کے لیےنافذ ہوگا۔اس قانون کے تحت، قتل کا مرتکب پائے جانے والے۱۳؍ سالہ بچے کوایک سے ۳؍ سال جبکہ۱۴؍ سالہ فرد کو۳؍ سے۴؍ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم انفرادی معاملات میں عدالتوں کو اختیار حاصل رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: اسلام مخالف بیانات دینے پراسرائیلی انفلوئنسر کا ویزا منسوخ
بعد ازاں اسٹرومر نے کہا کہ’’ ہم عمومی تخفیف کی بات نہیں کر رہے بلکہ انتہائی سنگین جرائم کے لیے عمر میں تخفیف کی بات کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے جرائم کی کوشش، تیاری اور معاونت بھی اس میں شامل ہوں گی۔کم سنگین جرائم، جیسے ہتھیار کی منتقلی، بنیادی طور پر نوجوانوں کی نگرانی کا سبب بنیں گے۔مزید یہ کہ حکومتی تجویز میں بڑی عمر کے نوجوانوں کے لیے بھی تبدیلیاں شامل ہیں۔ جس کے تحت ۱۵؍ سے ۱۷؍ سالہ نوجوانوں کے لیے سزا میں رعایت کم کی جائے گی، جبکہ۱۵؍ سے ۱۷؍ سالہ نوجوانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا۱۴؍ سال سے بڑھا کر ۱۸؍ سال کر دی جائے گی۔ تاہم عمر قید کی سزا برقرار رہے گی۔وزیر نے کہا کہ’’یہ معاشرے کے تحفظ کے بارے میں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: منیاپولس: وفاقی عدالت نے ۵؍ سالہ بچے اور والد کی جلا وطنی روک دی
دریں اثناءان منصوبوں پر سویڈن کی جیل اور پروبیشن سروس، پولیس اور پراسیکیوشن اتھارٹی کی جانب سے تنقید کی گئی ہے، جنہوں نے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا ہے۔اسٹرومر نے کہا کہ حکومت نے ان خدشات کا احتیاط سے جائزہ لیا لیکن اس نتیجے پر پہنچی کہ اس تبدیلی کے نہ کرنے سے معاشرے کو زیادہ بڑے خطرات لاحق ہوسکتےہیں۔