Updated: August 18, 2026, 3:59 PM IST
| Beijing
چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی دوڑ نے ایک اور حیران کن مشین کو سامنے لایا ہے۔ یونی ٹری روبوٹکس نے ’’سپر مین‘‘ نامی ایک نیا روبوٹ متعارف کرایا ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کھڑے ہونے کی حالت میں۲؍ میٹر کی چھلانگ لگا سکتا ہے اور ۱۲ء۶۶؍میٹر فی سیکنڈ کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتا ہے۔
یوسین اور روبوٹ۔ تصویر:آئی این این
چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی دوڑ نے ایک اور حیران کن مشین کو سامنے لایا ہے۔ یونی ٹری روبوٹکس نے ’’سپر مین‘‘ نامی ایک نیا روبوٹ متعارف کرایا ہے، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کھڑے ہونے کی حالت میں۲؍ میٹر کی چھلانگ لگا سکتا ہے اور ۱۲ء۶۶؍میٹر فی سیکنڈ کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتا ہے۔ اس روبوٹ کی رونمائی یونی ٹری کیلئے ایک اہم وقت پر ہوئی ہے۔ ہانگژو میں قائم یہ کمپنی۶ء۱؍ ارب یوآن (۹۰۵؍ملین ڈالر) کی آئی پی او رقم حاصل کرنے کے بعد شنگھائی کے اسٹار مارکیٹ میں اپنے حصص کی خرید و فروخت شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے آئی پی او میں عام سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی اور اطلاعات کے مطابق ریٹیل پیشکش ۸؍ ہزارگنا سے بھی زیادہ اوور سبسکرائب ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے:’’گلزار بے مثال قلمکار ہیں جن کی مثالیں دی جائیں گی‘‘
یونی ٹری کا ’سپر مین‘۲؍ میٹر کی چھلانگ لگا سکتا ہے
یونی ٹری کا کہنا ہے کہ اس نے یہ نیا روبوٹ صرف تین ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں تیار کیا ہے۔ اس کی نمایاں کارکردگی کے اعداد و شمار تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ہیومنائیڈ روبوٹ کے شعبے کیلئے بھی غیر معمولی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ روبوٹ کھڑے ہوکر ۲؍ میٹر کی چھلانگ لگا سکتا ہے اور۱۲ء۶۶؍میٹر فی سیکنڈ، یعنی تقریباً۴۵ء۶؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتا ہے۔ موازنے کے لیے، یوسین بولٹ نے ۱۰۰؍میٹر کی عالمی ریکارڈ دوڑ کے دوران تقریباً ۱۲ء۴؍میٹر فی سیکنڈ کی زیادہ سے زیادہ رفتار ریکارڈ کی تھی۔ تاہم، اس موازنے کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے، کیونکہ روبوٹ کی مختصر مدت کی انتہائی رفتار اور انسانی ایتھلیٹ کی پوری دوڑ کے دوران کارکردگی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ یونی ٹری نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’’سپر مین‘‘ ابھی تک تکمیل کے مرحلے میں ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
یونی ٹری اتنی توجہ کیوں حاصل کر رہی ہے؟
اس روبوٹ کی رونمائی یونی ٹری کی شنگھائی اسٹاک مارکیٹ میں آمد سے عین قبل ہوئی ہے، جس سے چین کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی روبوٹکس کمپنیوں میں سے ایک کے گرد جوش و خروش مزید بڑھ گیا ہے۔ یونی ٹری کے مطابق جولائی تک وہ اپنے مختلف ماڈلز کے تقریباً۱۸؍ ہزاردو ٹانگوں والے ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کرکے فراہم کر چکی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی صرف مظاہروں ہی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ کمپنی اس لیے بھی خاصی نمایاں ہوئی ہے کہ اس کے روبوٹس کو دوڑتے، رقص کرتے اور مارشل آرٹس کی حرکات کرتے ہوئے دکھایا جا چکا ہے۔ کمپنی کی سرکاری تاریخ میں بڑے پیمانے پر ہیومنائیڈ روبوٹس کے مظاہروں کا بھی ذکر ہے، جن میں درجنوں روبوٹس نے ایک ساتھ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یونی ٹری کو چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جن میں ٹین سینٹ، علی بابا اور ڈیپ سیک شامل ہیں، کی حمایت حاصل ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:محکمۂ تعلیم کی اسکولوں کے لئے فوڈسیفٹی گائیڈلائن جاری
آئی پی او نے روبوٹس کی دوڑ میں ایک نیا پہلو شامل کردیا
یونی ٹری کے آئی پی او پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ چین کی ہیومنائیڈ روبوٹ صنعت کے لیے اب تک کے واضح ترین عوامی مارکیٹ ٹیسٹ میں سے ایک ہے۔ کمپنی نے اپنے حصص کی قیمت۱۵۰ء۸۰؍ یوآن فی شیئر مقرر کی، جس سے تقریباً۶ء۱؍ ارب یوآن حاصل ہوئے اور کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً ۹؍ ارب ڈالر بنتی ہے۔ تاہم، اس جوش و خروش کے ساتھ ایک انتباہ بھی موجود ہے۔ ہیومنائیڈ روبوٹس ابھی ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہیں اور شاندار مظاہرے لازماً بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال میں تبدیل نہیں ہوتے۔ یونی ٹری کے لیے اگلا امتحان اس بات سے کہیں بڑا ہے کہ ’’سپر مین‘‘ کتنی تیزی سے دوڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار یہ جاننا چاہیں گے کہ آیا چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کا موجودہ جنون ان متاثر کن مشینوں کو ایک پائیدار کاروبار میں تبدیل کر سکتا ہے۔