Updated: July 19, 2026, 2:00 PM IST
| Kolkata
لاوی کی پرورش زیورخ میں ہوئی۔ ان کے والدین نے انہیں بچپن ہی سے سفر اور مختلف ثقافتوں سے روشناس کرایا۔ ان کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ کامیابی اور مالی استحکام حاصل کرنے کے باوجود، وہ بیرونِ ملک دیکھی جانے والی ناہمواریوں سے پریشان تھیں۔ آخر ایک دن لاوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور بہت کم سامان کے ساتھ ہندوستان منتقل ہو گئیں۔
سینڈرا لاوی بچوں کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
پندرہ سال قبل، سوئس شہری سینڈرا لاوی (Sandra Lavie) سوئزرلینڈ اور دبئی میں اپنی کامیاب کارپوریٹ کیریئر چھوڑ کر کسی طے شدہ منصوبے کے بغیر ہندوستان کی ون-وے فلائٹ پر سوار ہو گئیں۔ ان کا یہ سفر بالآخر انہیں مغربی بنگال کے ایک دور دراز گاؤں میں لے گیا، جہاں انہوں نے ایک مفت پرائمری اسکول قائم کرنے میں مدد کی۔ یہ اسکول اب سماجی تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔
لاوی کی پرورش سوئزرلینڈ کے شہر زیورخ میں ہوئی۔ ان کے والدین نے انہیں بچپن ہی سے سفر اور مختلف ثقافتوں سے روشناس کرایا۔ ان کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ کامیابی اور مالی استحکام حاصل کرنے کے باوجود، وہ بیرونِ ملک دیکھی جانے والی ناہمواریوں سے پریشان تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ”میں نے جتنا زیادہ سفر کیا، اتنا ہی میں نے ان ناہمواریوں پر سوال اٹھایا جو میں دیکھ رہی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ کامیابی نے مجھے آسائش تو دی تھی، لیکن کوئی مقصد نہیں دیا۔“
یہ بھی پڑھئے: بہار: پٹنہ میں گِگ ورکرز کیلئے۲۴؍گھنٹے ایئرکنڈیشنڈ آرام گاہیں قائم
آخر ایک دن لاوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور بہت کم سامان کے ساتھ ہندوستان منتقل ہو گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ”اپنی زندگی میں پہلی بار، میں نے خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کیا۔ میرے پاس بہت کم تھا، پھر بھی میں نے خود کو کبھی اس سے زیادہ امیر محسوس نہیں کیا تھا۔“ یہاں اپنے ابتدائی دنوں میں انہیں ثقافتی دھچکوں (culture shocks) اور دھوکہ دہی کا شکار ہونا پڑا لیکن ان واقعات کے باوجود اجنبیوں کی طرف سے ملنے والی غیر متوقع ہمدردی نے انہیں حوصلہ دیا۔
مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کرنے اور کچھ تنظیموں میں مالی بدانتظامی کا مشاہدہ کرنے کے بعد، لاوی نے خود کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مغربی بنگال کے ایک دور دراز جزیرے پر واقع گاؤں کا سفر کیا، جہاں صرف ٹرین اور کشتی کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا تھا۔ وہاں اسکول قائم کرنے سے پہلے وہاں کے رہائشیوں کی باتوں کو سننے اور سمجھنے میں وقت گزارا۔
View this post on Instagram
دیہاتیوں کا اعتماد حاصل کرنے میں انہیں مہینوں لگ گئے، کیونکہ بہت سے خاندان آمدنی کیلئے اپنے بچوں کی مزدوری پر انحصار کرتے تھے۔ اسکول کے اساتذہ روزانہ گھروں کا دورہ کرتے تھے تاکہ بچوں کو اسکول آنے کی ترغیب دی جا سکے۔ گاؤں میں رہنے والے خاندانوں نے اسکول کے تسلسل اور وہاں دی جانے والی دیکھ بھال کے معیار کو دیکھا تو وقت کے ساتھ، آہستہ آہستہ ان کی سوچ میں تبدیلی آنے لگی۔
لاوی کے قائم کردہ اسکول کا کام اب صرف تعلیم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں کم عمری کی شادی، انسانی اسمگلنگ اور گھریلو تشدد کے خلاف آگاہی کے پروگرام بھی منعقد کئے جاتے ہیں جنہیں زیادہ تر تربیت یافتہ نوجوان لیڈرز چلاتے ہیں۔ لاوی کے مطابق، ۱۰۰ سے زیادہ نوجوان لیڈرز کو تربیت دی جا چکی ہے، جو ۳۰ دیہاتوں میں تقریباً ۲۰ ہزار بچوں، نوعمروں اور بالغان تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جوہر یونیورسٹی کے معاملے پرسیاسی و سماجی حلقوں میں یوگی سرکار کی شدید مذمت
لاوی کا کہنا ہے کہ دیہی ہندوستان میں گزارے گئے برسوں نے انہیں ان کی توقع سے کہیں زیادہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”ہندوستان نے مجھے میری سوچ سے کہیں زیادہ بدل دیا ہے۔ اس ملک نے مجھے صبر، عاجزی اور قبولیت سکھائی ہے۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”اب میں اس کام کو کوئی قربانی نہیں سمجھتی۔ میں اسے ایک اعزاز سمجھتی ہوں۔“