Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار: پٹنہ میں گِگ ورکرز کیلئے۲۴؍گھنٹے ایئرکنڈیشنڈ آرام گاہیں قائم

Updated: July 18, 2026, 8:00 PM IST | Patna

پٹنہ میں گِگ ورکرز کیلئے دو ۲۴؍گھنٹے ایئرکنڈیشنڈ آرام گاہوں کا افتتاح کیا گیا ہے، جہاں معمولی فیس پر آرام، پینے کے پانی، چارجنگ اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولتیں دستیاب ہیں۔ ورکرز نے اس اقدام کو شدید گرمی اور طویل اوقاتِ کار کے دوران ایک اہم سہولت قرار دیتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں مزید ایسے مراکز قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Air-conditioned rest rooms built for gig workers in Patna. Photo: X
پٹنہ میں گگ ورکرز کیلئے بنائی گئیں ایئر کنڈیشنڈ آرام گاہیں۔ تصویر: ایکس

پٹنہ میں زیادہ تر گِگ ورکرزکیلئے وقفہ لینا تقریباً ناممکن تصور کیا جاتا تھا، چاہے انہیں فوری طور پر کوئی نئی ڈلیوری نہ بھی کرنی ہو۔ ایک ڈلیوری ورکر نے بتایا، ’’پہلے ہم چند منٹ کیلئے اپنی بائیک درخت کے نیچے کھڑی کرکے بیٹھ جاتے تھے، لیکن شدید گرمی کی وجہ سے وہاں رکنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ کئی بار ایسا لگتا تھا کہ آرام کرنے کے بجائے کام جاری رکھنا ہی بہتر ہے۔ ‘‘یہ صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب پٹنہ میں پلیٹ فارم پر کام کرنے والے ورکرز کیلئے دو۲۴؍ گھنٹے کھلی رہنے والی ایئر کنڈیشنڈ آرام گاہیں قائم کی گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: کیرالا: ہوٹل لفٹ میں پھنسے ششی تھرور بحفاظت نکالے گئے، ریسکیو ٹیم کو خراجِ تحسین

یہ سہولتیں پٹنہ اسمارٹ سٹی لمیٹڈ نے گاندھی میدان کے گیٹ نمبر ۴؍ اور انکم ٹیکس گولمبر کے قریب قائم کی ہیں۔ ان مراکز میں ایئر کنڈیشننگ، بیٹھنے کی مناسب جگہ، موبائل چارجنگ پوائنٹس، پینے کے صاف پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بہار میں ۶۸؍ ہزار۷۲۰؍رجسٹرڈ گیگ ورکرز موجود ہیں، جو ریاست کی پلیٹ فارم معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ اقدام بہار حکومت کی ان حالیہ کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد پلیٹ فارم پر کام کرنے والے مزدوروں کو قانونی شناخت اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں ریاست نے بہار پلیٹ فارم بیسڈ گیگ ورکرز (رجسٹریشن، تحفظ اور بہبود) ایکٹ نافذ کیا، جس کا مقصد گیگ ورکرز کو فلاحی سہولتیں اور ادارہ جاتی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یتیم خانے میں پرورش، مگر حوصلوں نے آسمان چھو لیا

دی انڈین ایکسپریس نے ایک دوپہر گاندھی میدان کے قریب واقع آرام گاہ کا دورہ کیا، جہاں تقریباً۱۵؍ گِگ ورکرز آرام کرتے نظر آئے۔ کارکنوں نے بتایا کہ درختوں کے سائے یا پیٹرول پمپوں کے مقابلے میں یہ آرام گاہیں زیادہ محفوظ اور آرام دہ ہیں، جہاں وہ مختلف ڈلیوریوں کے درمیان کچھ دیر سکون سے بیٹھ سکتے ہیں۔ زیادہ تر ورکرز نے بتایا کہ وہ تقریباً چار گھنٹے مسلسل کام کرنے کے بعد۳۰؍ سے۴۰؍ منٹ کا وقفہ لیتے ہیں۔ ہر مرکز پر کم از کم دو ملازمین موجود رہتے ہیں، جو کارکنوں کے داخلے اور اخراج کو منظم کرتے ہیں۔ ان آرام گاہوں کے استعمال کی معمولی فیس ہر ۳۰؍منٹ کیلئے صرف۲؍ روپے مقرر کی گئی ہے۔ دن بھر مختلف علاقوں سے آنے والے کارکن یہاں آتے اور جاتے رہتے ہیں، جن میں سمستی پور، حاجی پور اور نالندہ کے افراد بھی شامل ہیں۔ 
اگرچہ ورکرز نے ان مراکز کے مقامات کو مناسب قرار دیا، تاہم، ان کا کہنا تھا کہ پٹنہ جیسے بڑے شہر کیلئے صرف دو آرام گاہیں ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق شہر میں ہر ۵؍سے ۷؍کلومیٹر کے فاصلے پر ایسے مراکز قائم کئے جانے چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کارکن ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ سمستی پور سے تعلق رکھنے والے ڈلیوری رائیڈر سوربھ نے کہا، ’’اگر میری ڈلیوری گاندھی میدان یا انکم ٹیکس کے قریب ہوگی تو میں ضرور یہاں آؤں گا، لیکن اگر میں شہر کے دوسرے حصے میں ہوں تو صرف آرام گاہ تک پہنچنے کیلئے۲۰؍یا۳۰؍ منٹ ضائع کرنا مناسب نہیں۔ ‘‘ایک اور ورکر نے کہا کہ اگر شہر کے مختلف علاقوں میں مزید ایسے مراکز قائم کئے جائیں تو کارکن انہیں باقاعدگی سے استعمال کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال :مرشد آباد میں ٹرین کی اسکول وین سےٹکر،۳؍ افراد ہلاک

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایپ پر مبنی ڈلیوری اور ٹرانسپورٹ خدمات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس نے شہری مزدور منڈی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گِگ ورکرز کی کام کرنے کی شرائط، سماجی تحفظ، شدید گرمی میں کام کرنے کے مسائل اور بنیادی سہولتوں تک رسائی جیسے موضوعات پر بھی بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ نیتی آیوگ کے اندازوں کے مطابق ہندوستان میں گیگ اور پلیٹ فارم ورکرز کی تعداد، جو۲۰۲۰ء۔ ۲۱ء میں تقریباً۷۷؍ لاکھ تھی، آئندہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھنے کی توقع ہے۔ اگرچہ یہ نئی آرام گاہیں اجرت، سماجی تحفظ یا ملازمت کے حقوق جیسے بڑے مسائل کا حل نہیں ہیں، تاہم، دی انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرنے والے بیشتر کارکنوں نے انہیں ایک عملی اور بروقت اقدام قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ مراکز انہیں طویل اوقاتِ کار کے دوران آرام کرنے، گرمی سے بچنے اور ٹھنڈا پانی پینے کیلئے ایک محفوظ جگہ فراہم کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK