Inquilab Logo Happiest Places to Work

تائیوان میں آبادی میں کمی کا سلسلہ جاری، شرح پیدائش میں مسلسل ۳۰؍ویں مہینے کمی

Updated: July 12, 2026, 4:24 PM IST | Taipei

تائیوان میں آبادی میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں شرح پیدائش میں۳۰؍ویں مہینے کمی درج کی گئی،ملک ۲۰۲۵ءمیں باضابطہ طور پر انتہائی بوڑھا معاشرہ (سپر ایجڈ سوسائٹی) بن گیا، جہاں ۶۵؍سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد، آبادی کا۲۰؍ فیصد سے زیادہ ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

 تائیوان میں آبادی میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں شرح پیدائش میں۳۰؍ویں مہینے کمی درج کی گئی،ملک ۲۰۲۵ءمیں باضابطہ طور پر انتہائی بوڑھا معاشرہ (سپر ایجڈ سوسائٹی) بن گیا، جہاں ۶۵؍سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد، آبادی کا۲۰؍ فیصد سے زیادہ ہیں۔داخلی وزارت کے جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، تائیوان کی آبادی میں مسلسل۳۰؍ویں مہینے کمی واقع ہوئی ہے، جو آبادی میں کمی کا اب تک کا طویل ترین سلسلہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، سال کے پہلے نصف میں صرف ۴۶۳۴۴؍پیدائش درج کی گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں ۵۵۳۷۵؍سے کم ہیں۔جبکہ گزشتہ ماہ کے آخر تک، تائیوان کی آبادی۲۳؍ اعشاریہ ۲۴؍ ملین تھی، جو ایک سال قبل سےایک لاکھ کم ہے۔بعد ازاں بلومبرگ نیوز کے مطابق، تازہ ترین اعداد و شمار دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد کے اعداد و شمار میں آبادی میں کمی کا طویل ترین سلسلہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ملازمتیں امریکیوں کیلئے ہیں، غیر ملکی فراڈیوں کیلئے نہیں: جے ڈی وینس

واضح رہے کہ تائیوان گزشتہ سال باضابطہ طور پر ایک انتہائی بوڑھا معاشرہ بنا، جس کا مطلب ہے کہ۶۵؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد آبادی کے۲۰؍ فیصد سے زیادہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، جون کے آخر تک،۱۱؍ اعشاریہ ۳۴؍ فیصد آبادی صفرسے۱۴؍ سال کی عمر میں تھی، جبکہ۶۸؍ اعشاریہ ۱۸؍فیصد۱۵؍ سے۶۴؍ سال کی عمر میں تھے اور۲۰؍ اعشاریہ ۴۹؍ فیصد 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔تائی پے میں بزرگ رہائشیوں کا سب سے زیادہ تناسب تھا، جہاں اس کی آبادی کا ۲۴؍ اعشاریہ  ۶۱؍فیصد ۶۵؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کا تھا، جبکہ ہسینچو کاؤنٹی میں یہ تناسب سب سے کم ۱۵؍ اعشاریہ  ۳۸؍فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی افریقہ میں غیر قانونی تارکین وطن مخالف گروہ سرگرم

علاوہ ازیں تائیوان میں جون میں ۷۳۲۴؍ پیدائشیںدرج کی گئیں، جو ایک سال قبل سے کم لیکن مئی سے زیادہ تھیں۔ہسینچو سٹی میں شرح پیدائش سب سے زیادہ۵؍ اعشاریہ صفر۵؍  فی۱۰۰۰؍ افراد تھی، جبکہ کیلونگ میں سب سے کم۲؍ اعشاریہ  ۲؍ فی۱۰۰۰؍ تھی۔اس کے علاوہ۱۶۳۴۰؍ اموات ہوئیں، جس میں شرح اموات۸؍ اعشاریہ ۵۵؍فی۱۰۰۰؍ افراد تک پہنچ گئی۔ جبکہ نقل مکانی کے اعداد و شمار میں،۶۵۱۰۱؍ افراد تائیوان میں داخل ہوئے اور۶۵۱۶۱؍ افراد باہر گئے، جس کے نتیجے میں۶۰؍ افراد کا اخراج ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK