Inquilab Logo Happiest Places to Work

سمے رائنا کے شو میں تنزانیائی امیدوار کی شرکت؛ غیر ملکی طلبہ کیلئے اسکالرشپس پر آن لائن بحث چھڑ گئی

Updated: August 14, 2026, 10:05 PM IST | Mumbai

رپورٹس کے مطابق، فیضل کو انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (ICCR) سے منسلک ایک اسکالرشپ کے تحت ماہانہ تقریباً ۱۸ ہزار سے ۲۰ ہزار روپے ملتے ہیں، جو تعلیمی اور ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے تحت ہندوستان میں پڑھنے والے بین الاقوامی طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ تنزانیہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے مطابق، سال ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے تنزانیہ کو آئی سی سی آر اسکالرشپ کے ۱۳۵ سلاٹس ملے۔

Samay Raina and Faizal. Photo: X
سمے رائنا اور فیضل۔ تصویر: ایکس

معروف کامیڈین سمے رائنا کے شو ”انڈیاز گوٹ لیٹنٹ سیزن ۲“ کے ایک حالیہ ایپی سوڈ میں تنزانیہ کے ایک شہری، جو فی الحال ہندوستان میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، کی شرکت نے ملک میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کو حکومت کی مالی اعانت سے دی جانے والی اسکالرشپس پر انٹرنیٹ پر ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔ ہریانہ میں مقیم فیصل، جو فیضل فضلی علی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، نے سمے رائنا کے شو میں مراٹھی اور ہریانوی گانوں کی پرفارمنس کے ساتھ مشہور شخصیات کے پینل جس میں بادشاہ، ہرش لمباچیا، سورو جوشی اور رجت سود شامل تھے، کو محظوظ کیا اور ساتھ ہی ہندی، پنجابی، تمل اور مراٹھی زبانوں میں اپنی روانی کے بارے میں بھی بات چیت کی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں ہندوستانی سفیر رودرا گورو شریستھ کا فارسی زبان میں الوداعی پیغام وائرل

یہ ایپی سوڈ ریلیز ہونے کے بعد فیضل کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے اور ایکس پر نیہا پٹیل نامی صارف کی پوسٹ کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا۔ پٹیل نے اپنے پوسٹ میں نشان دہی کی کہ فیضل نے شو کے دوران ہندوستانی حکومت کی طرف سے ۱۸ سے ۲۰ ہزار روپے کی مالی امداد حاصل کرنے کا انکشاف کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ اس رقم کا ایک حصہ تنزانیہ میں اپنی والدہ کو بھیجتے ہیں۔ پٹیل نے سوال اٹھایا کہ ہندوستانی ٹیکس دہندگان کو غیر ملکی طلبہ کیلئے وظائف کی فنڈنگ کیوں کرنی چاہئے جبکہ خود بہت سے ہندوستانی طلبہ کو سیٹوں، ہاسٹل کی رہائش اور بنیادی وسائل کے حصول کیلئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ پٹیل نے آئی آئی ٹی کی نشستوں اور دہلی یونیورسٹی میں ہاسٹل کی جگہ کی کمی کا حوالہ دیا۔

رپورٹس کے مطابق، فیضل کو انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (ICCR) سے منسلک ایک اسکالرشپ کے تحت ماہانہ تقریباً ۱۸ ہزار سے ۲۰ ہزار روپے ملتے ہیں، جو تعلیمی اور ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے تحت ہندوستان میں پڑھنے والے بین الاقوامی طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ تنزانیہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے مطابق، سال ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے تنزانیہ کو آئی سی سی آر اسکالرشپ کے ۱۳۵ سلاٹس ملے۔ یہ کسی بھی افریقی ملک کے لیے سب سے زیادہ مختص کی گئی تعداد ہے۔ پہلے ان کی تعداد ۸۵ تھی۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر پر چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی استعمال کئے جانےکیخلاف عدالت میں عرضی

اس بحث نے سوشل میڈیا صارفین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ کچھ صارفین کا موقف ہے کہ ایسی اسکالرشپس کا مطلب ٹیکس دہندگان کے پیسے کو ترسیلاتِ زر کے طور پر بیرونِ ملک بھیجنا ہے۔ ایک صارف نے نوٹ کیا کہ ”ہمارے ٹیکس کا پیسہ یہاں جا رہا ہے۔“ تاہم کئی صارفین نے اسکالرشپ پروگرام کا دفاع کیا اور اسے ہندوستان اور دیگر ممالک کے درمیان معیاری دوطرفہ خیر سگالی کے انتظامات کا حصہ قرار دیا اور بتایا کہ ہندوستانی طلبہ کو بھی بیرونِ ملک اسکالرشپس ملتی ہیں جیسے کہ ایراسمس منڈس (Erasmus Mundus) پروگرام۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایسے تبادلے سفارتی، ثقافتی اور معاشی تعلقات قائم کرتے ہیں اور بیرونِ ملک ہندوستان کا ایک مثبت تاثر پیدا کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK