Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈین ریلوے کی عدم ادائیگی کے باعث ٹاٹا موٹرز کا قیام عمل میں آیا: نول ٹاٹا

Updated: August 02, 2026, 8:02 PM IST | Mumbai

ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نول ٹاٹا نے اتوار کو انکشاف کیا کہ آج ہندوستان کی سب سے بڑی آٹوموبائل کمپنیوں میں شمار ہونے والی ٹاٹا موٹرز دراصل ایک مالی بحران کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

Noel Tata.Photo:INN
نول ٹاٹا۔ تصویر:آئی این این

ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نول ٹاٹا نے اتوار کو انکشاف کیا کہ آج ہندوستان کی سب سے بڑی آٹوموبائل کمپنیوں میں شمار ہونے والی ٹاٹا موٹرز دراصل ایک مالی بحران کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ٹاٹا انجینئرنگ اینڈ لوکوموٹیو کمپنی (ٹیلکو) کی واحد گاہک ہندوستانی ریلوے تھی، لیکن ریلوے نے لوکوموٹیوز کی بروقت ادائیگی نہیں کی، جس کے باعث کمپنی کو اپنی بقا کے لیے ٹرک سازی کے شعبے میں قدم رکھنا پڑا۔ٹاٹا گروپ کی تاریخ کے ایک کم معروف باب کا ذکر کرتے ہوئے نول ٹاٹا نے کہا کہ ٹیلکو کا ٹاٹا موٹرز میں تبدیل ہونا کسی کاروباری توسیع کی خواہش نہیں بلکہ زندہ رہنے کی ضرورت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، بنگلورو (آئی آئی ایم-بی) میں ’’انٹرپرائز سے ادارہ سازی تک: بدلتے ہوئے ہندوستان  میں ٹاٹا فلسفہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ ٹیلکو کا قیام اصل میں لوکوموٹیوز تیار کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ’’پرانے زمانے میں اس کا نام ٹاٹا انجینئرنگ اینڈ لوکوموٹیو کمپنی تھا کیونکہ اس کی شروعات لوکوموٹیوز بنانے والی کمپنی کے طور پر ہوئی تھی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کو جلد ہی ایک سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ نول ٹاٹا نے کہاکہ ’’ہمارا صرف ایک ہی گاہک تھا، یعنی ہندوستانی ریلوے۔ دوسرا کوئی خریدار موجود نہیں تھا، اور ہندوستانی ریلوے ہمارے تیار کردہ لوکوموٹیوز کی ادائیگی نہیں کرتی تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:کنگنا رناوت کا رتیک روشن کو جواب’’اپنی ساتھی کو شرمندہ کرنا بند کریں‘‘


انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ کمپنی کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا۔ اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر سمنت مولگاؤکر نے فیصلہ کیا کہ کمپنی کو نئی صنعت میں قدم رکھنا ہوگا۔ نول ٹاٹا کے مطابق’’انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح مزید نہیں چل سکتے۔ وہ مرسڈیز بینز کے پاس گئے اور کہا کہ ملک کو ٹرکوں کی بھی ضرورت ہے، کیا آپ ہمیں ٹرک بنانے میں مدد دیں گے؟ اسی طرح ٹاٹا موٹرز کا آغاز ہوا کیونکہ ہمیں لوکوموٹیوز بنانے کی ادائیگی نہیں مل رہی تھی اور ہم تقریباً دیوالیہ ہونے والے تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ ٹاٹا گروپ ہمیشہ صرف تجارتی منافع کے بجائے ہندوستان کی ترقیاتی ضروریات کو سامنے رکھ کر کاروبار قائم کرتا آیا ہے۔ٹاٹا گروپ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے انہوں نے ٹاٹا پاور کی مثال بھی دی۔ ان کے مطابق سر دوراب جی ٹاٹا نے ممبئی کی ٹیکسٹائل ملوں کے مالکان کو اس دور میں بجلی استعمال کرنے پر آمادہ کیا جب کوئلے سے چلنے والے بھاپ کے انجن عام تھے اور نئی ٹیکنالوجی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا’’وہ ایک مل سے دوسری مل جاتے تھے اور مالکان کو سمجھاتے تھے کہ اب اپنی فیکٹریاں چلانے کے لیے بھاپ کی ضرورت نہیں، بجلی ہی کافی ہے۔‘‘ نول ٹاٹا نے کہا کہ ٹاٹا گروپ کے کئی بڑے ادارے ایسے ہی مواقع پر قائم ہوئے جب انہوں نے ملک کی اہم ضروریات کو پورا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ سابق چیئرمین جے آر ڈی ٹاٹا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گروپ کی حکمت عملی ہمیشہ نہایت سادہ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا’’ایک بار جب جے آر ڈی ٹاٹا سے پوچھا گیا کہ ٹاٹا گروپ کی حکمت عملی کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا ، ہمیں وہی کام کرنا چاہیے جس کی ہندوستان کو ضرورت ہے۔  یہی ان کی حکمت عملی تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ کی مایوسی کے بعد لیونل میسی کی واپسی، انٹر میامی کا کولمبس کریو سےمیچ ڈرا


نول ٹاٹا نے کہا کہ یہی فلسفہ آج بھی ٹاٹا گروپ اور ٹاٹا ٹرسٹس کی رہنمائی کر رہا ہے، جو اب قوم کی تعمیر کے وسیع تر مشن کے تحت صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مضبوط ادارے قائم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا’’کمپنیاں وسائل پیدا کرتی ہیں، لیکن بالآخر ان کا مقصد ہندوستان کی خدمت کرنا اور لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK