Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی سی ایس کیس ملزم کےرشتہ داروں کا ہراسانی معاملے کی آڑ میں دفتری سیاست کا الزام

Updated: April 20, 2026, 11:48 AM IST | Mumbai

رضا رفیق میمن کے ماموں ایاز قاضی نے کہا کہ یہ کیس ایک منظم ’سازش‘ کا حصہ ہے جس کی وجہ رضا رفیق کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کارکردگی ہے۔ ملزمہ نداخان کی پیشگی ضمانت پر آج سماعت کا امکان۔

Ayaz Qazi, uncle of accused Raza Rafiq Memon, talking in Nashik. (Photo: PTI)
ملزم رضا رفیق میمن کے ماموں ایاز قاضی ناسک میں گفتگو کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

ٹی سی ایس  ملازم رضا رفیق میمن  کے رشتہ داروں نے اتوار کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ  اس کے خلاف لگائے گئے ’جھوٹے‘ جنسی ہراسانی   اور تبدیلیٔ مذہب کرانے کے الزامات  کے پس پشت اندرونی پیشہ ورانہ رقابت اور دفتری سیاست ہے۔رضا  میمن کے ماموں ایاز قاضی نے کہا کہ یہ  کیس ایک منظم ’سازش‘ کا حصہ ہے جس کی وجہ رضامیمن کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کارکردگی ہے۔ واضح رہے کہ ملزم رضامیمن  جو فی الحال۲۰؍ اپریل تک پولیس کی حراست میں  ہے، ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسیز (ٹی سی ایس)  کے ایک یونٹ میں جنسی ہراسانی اور تبدیلیٔ مذہب کیلئے دباؤ ڈالنے کے الزامات کے تحت گرفتار شدہ ۸؍ افراد میں شامل ہیں۔وہ اس ٹیم کالیڈر  تھا جس میں شکایت کنندہ اور کلیدی ملزم دانش شیخ دونوں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’قوم سے خطاب‘‘ یا انتخابی تشہیر؟ ملک بھر میں بحث

’’گزشتہ سال فرم کےداخلی  امتحان میں ٹاپ کیا تھا‘‘

رضامیمن کے اہل خانہ نے کہا کہ بنیادی الزامات دانش شیخ کے خلاف ہیں  اور اگر وہ قصوروار ہے تو اسے بخشا نہیں جانا چاہئے۔ ایازقاضی نے کہاکہ ’’تاہم میرے بھانجے کی تعلیمی اور پیشہ وارانہ کارکردگی کی وجہ سے اس کے خلاف یہ الزامات ایک منظم سازش کا حصہ ہوسکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے  یہ بھی  کہا کہ رضا میمن  کا تعلق سے غریب  خاندان سے  اور اس نے گزشتہ سال فرم کے داخلی امتحان میں ٹاپ کیا تھا جس سے دیگر ساتھیوں میں حسد پیدا ہو سکتا تھا۔ چونکہ وہ ایک ٹاپر بن گیا تھا اسی لئے یہ معاملہ دفتری سیاست کا نتیجہ لگتا ہے۔انہوں نے اپنے بھانجے کو  کو’مددگار‘ قرار دیتے ہوئے شکایت کنندگان اور میمن کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ (رضا میمن)     انہیں ان کی  ذاتی وجوہات کی بنا پردفتر جلد سے جانے کی اجازت دی تھی۔انہوں نے مزیدکہا کہ ’’ایک ٹیم لیڈر کے طور پر ان کی توجہ سیلز کے اہداف اور ٹیم کی پروڈکٹیویٹی  پر تھی۔

یہ بھی پڑھئے: اکولہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر ہفتہ وصولی کے الزام میں معطل

رضا رفیق میمن کے اہل خانہ نے بھی اس کے خلاف کیس میں فرقہ وارانہ تفریق کرنے کے دعوے کئے تھے۔ ایازقاضی نے دعویٰ کیا کہ درجہ بندی میں میمن سے اوپر کے لوگ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں رضا میمن کو ملوث کرنا اعلیٰ کارکردگی کے حامل ملازمین کے کیریئر کو پٹری سے اتارنے کی ایک ’منصوبہ بند سازش‘ ہے۔

دوسرے ملزم کے خاندان کے ایک فرد نے اسے بے قصور قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسے  ’پھنسایا‘  گیا ہے کیونکہ وہ دانش کے ساتھ گھومتا پھرتا تھا۔ وہ مذہب پر عمل پیرا ہونے والا شخص ہے اور ایسا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

نداخان کی تلاش کیلئے پولیس کی تین ٹیمیں 

ناسک پولیس نے اس معاملے کی  ملزمہ ندا خان کا سراغ لگانے کیلئے ۳؍ ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یہ ٹیمیں مختلف جگہوں پر روانہ کی گئی ہیں  اور ان میں سے ایک تھانے کے قریب ممبرا میں پہنچی۔

یہ بھی پڑھئے: پیارے خان کے بیان پر نونیت رانا بھڑک اٹھیں، اشتعال انگیز الزامات

  پیشگی ضمانت  کی درخواست پرسماعت   

دریں اثناندا خان نے ناسک کی سیشن عدالت میں پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی ہےجس پر پیر کو   پر سماعت ہو گی۔واضح رہے کہ ندا خان کے وکیل ایڈوکیٹ بابا سید نے بتایا تھا کہ اس کیس میں کل ۹؍ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ،  ان میں سے ایک جو دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے اس میں ایک سی آر ۱۵۶؍ ۲۶؍ میں یہ لکھا ہے کہ ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام ہے۔ ان ۹؍ ایف آئی آر میں ایک میں بھی کہیں تبدیلیٔ مذہب کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK