تعلیمی تنظیموںنے ڈیوٹی جوائن نہ کرنےوالے ۱۴؍ٹیچروں کے خلاف شکایت درج کرائے جانے کو تشویشناک قرار دیا اور اسےواپس لینے کامطالبہ کیا۔
ایس آئی آر مہاراشٹر۔ تصویر:آئی این این
ایس آئی آر اور بی ایل او کی ڈیوٹی ڈیوٹی جوائن نہ کرنے پر۱۴؍ اساتذہ کے خلاف بوریولی اور دہیسر کے پولیس اسٹیشنوں میں شکایت درج کرائی گئی ہے ۔ اطلاع کے مطابق ان ٹیچروںکو ایک ساتھ مذکورہ دونوں ڈیوٹی دی گئی تھی۔ تعلیمی یونینوںکےمطابق ایک تو اساتذہ کو ایک کے بجائے ۲؍ڈیوٹی دی جا رہی ہے ۔اس کی شکایت کرنے پر دونوں ڈیوٹی کو ایڈجسٹ کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے ۔ عنقریب ۱۵؍ جون سے اسکول بھی شروع ہو رہے ہیں، ایسے میں اساتذہ دونوں ڈیوٹی کے علاوہ اسکول کیسے جوائن کریں گے۔ ۔ ٹیچروںکی سمجھ میں نہیں آرہاہےکہ وہ کس کی ہدایت پرعمل کریں۔اس دوران مذکورہ ٹیچروںپر کیس درج کرنے سے اساتذہ اور تعلیمی تنظیموںمیں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ بدھ کو ’مہاراسٹر پروگامی شکشک سنگٹھنا‘ نے اس ضمن میں ممبئی شہرو مضافات کے ضلع کلکٹر کے علاوہ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کو مکتوب روانہ کیاجس میں مذکورہ اساتذہ کے خلاف پولیس میں شکایت کرنے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیاہے۔
مذکورہ تنظیم کے مطابق اساتذہ برسوں سے انتخابات، مردم شماری، مختلف سروے اور دیگر سرکاری کاموں میں انتظامیہ کے ساتھ مسلسل تعاون کر رہے ہیں۔ مئی کی پوری چھٹیوں کے دوران بھی بہت سے اساتذہ نے ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا کام دیانتداری سے انجام دیا۔ حالانکہ ان کامو ں کے دوران پیش آنے والی مشکلات، افرادی قوت کی کمی، اسکول کی ذمہ داریوں اور دیگر انتظامی رکاوٹوں کو سنجیدگی سے نہیں لیاگیا،اس کا اساتذہ کو شدید احساس ہے۔
اس سلسلے میںتنظیم نے چند نکات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ مثلاً ان قواعد کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہے جن کی بنیاد پر اسکول کے پورے عملے کو انتخابی کام کیلئے تعینات کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اساتذہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ۶،۷؍ گھنٹے اسکول میں باقاعدگی سے پڑھانے اور اسکول کے دیگرکاموں کے بعد انتخابی کام بھی کریں۔ اس سے اساتذہ میں غیر ضروری تناؤ پیدا ہوتا ہے اور اس سے طلبہ کا تعلیمی نقصان بھی ہوتا ہے ۔ متعدد اسکول مختلف مسائل، حقائق اور انکشافات تحریری طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیںلیکن محکمہ الیکشن کے افسران اسکولوں سے خط و کتابت قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ چونکہ ا سکولوں کے بیانات، انکشافات اور اعتراضات کو قبول نہیں کیا جا تاہے اس لئے اسکولوں کو سرکاری طور پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ متعلقہ اساتذہ سے اور بھی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ اسکول انتظامیہ کو وضاحت پیش کرنے کا موقع دیئے بغیربراہ راست اساتذہ کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں اسکولوں یا اساتذہ کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنا فطری انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس سے اساتذہ میں شدید ناراضگی پیدا ہوئی ہے۔ متعلقہ معاملات کی انکوائری ضروری ہے۔انتخابی کام میں تعاون کرنے والے اساتذہ کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جائے تو اس سے مستقبل میں سرکاری کاموں کے تئیں منفی ماحول پیدا ہوگا۔‘‘
مذکورہ تنظیم کے صدر تاناجی کامبلے کے مطابق ’’ اساتذہ کے خلاف غلطیوں، کمیونیکیشن کی کمی یا طریقہ کار میں خامیوں پر مقدمہ درج کرنا درست اور جائز نہیں ہے ۔ اس لئےمحکمہ الیکشن کے افسران کی جانب سے اسکولوں کے بیانات اور انکشافات کو قبول نہ کرنے کی شکایات کی مکمل چھان بین کی جانی چاہئے۔ متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات دی جائیں اورا سکولوں اور اساتذہ کا موقف سننے کیلئے ایک موثر میکانزم بنایا جائے اور اساتذہ کے خلاف درج مقدمات پر نظر ثانی کی جائے نیز متعلقہ اساتدہ کے خلاف غیر منصفانہ کارروائی واپس لی جائے۔‘‘ ا نہوں نے مزید کہا کہ ’’ اسکولوں کے بیانات نہ ماننے والوںکے بارےمیں بتانے کے باوجود اساتذہ کے مسائل کا نوٹس نہ لینے والے الیکشن افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اساتذہ وہ ملازم ہیں جو قوم کی تعمیر کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل میں انتظامیہ کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا ہے۔ اس لئے انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہ کرے۔ عاجزانہ درخواست ہے کہ تمام معاملات کو سنجیدگی سے لینےکےبعد فوری طور پر مناسب ایکشن لیں ۔‘‘