Updated: January 12, 2026, 8:15 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع حبیما اسکوائر میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے متنازع عدالتی اصلاحات کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحات اور حکومتی پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل میں سیاسی بے چینی ایک بار پھر سڑکوں پر نظر آئی جب ہزاروں شہریوں نے تل ابیب کے مرکزی مقام حبیما اسکوائر میں جمع ہو کر وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی عدالتی اصلاحات کو واپس لینا اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا تھا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’جمہوریت خطرے میں ہے‘‘، ’’عدلیہ کو آزاد رہنے دو‘‘ اور ’’آمریت قبول نہیں‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ عدالتی اصلاحات نہ صرف طاقت کے توازن کو بگاڑیں گی بلکہ اسرائیل کی جمہوری بنیادوں کو بھی کمزور کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا منصوبے روک دیا
احتجاج میں شامل کئی شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عدلیہ کے اختیارات محدود کر کے فیصلوں پر سیاسی کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق، اگر عدالتی نظام کو کمزور کیا گیا تو شہری حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور آزاد صحافت پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی رائے کا احترام کرے اور اصلاحات پر وسیع قومی مکالمہ شروع کرے۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی کشمکش کا شکار ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے مجوزہ عدالتی اصلاحات کے خلاف ملک بھر میں بارہا مظاہرے ہو چکے ہیں، جن میں وکلا، ماہرین قانون، سابق جج، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات سپریم کورٹ کے اختیارات کم کر دیں گی اور پارلیمان کو غیر معمولی طاقت دے دیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جوہری مذاکرات کیلئے رابطہ کیا اور بات چیت کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ عدالتی اصلاحات کا مقصد نظام میں توازن پیدا کرنا اور منتخب نمائندوں کے فیصلوں کو غیر منتخب اداروں کے اثر سے آزاد کرنا ہے۔ حکومتی حامیوں کا دعویٰ ہے کہ موجودہ عدالتی نظام حد سے زیادہ طاقتور ہے اور عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرتا ہے۔ تاہم، اپوزیشن اور سول سوسائٹی ان دلائل کو مسترد کرتی ہے اور انہیں جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتی ہے۔ حبیما اسکوائر میں ہونے والا یہ احتجاج پُرامن رہا، تاہم سیکوریٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات رہی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی تحریک پُرامن ہے اور وہ آئینی و جمہوری طریقوں سے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیلی معاشرہ اس وقت گہرے سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف حکومت اپنی پالیسیوں پر قائم ہے جبکہ دوسری جانب عوام کا ایک بڑا طبقہ ان اصلاحات کو خطرناک سمجھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے عوامی خدشات کو نظرانداز کیا تو احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو وہ آئندہ دنوں میں مزید بڑے مظاہرے کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کا تحفظ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے، اور وہ اس جدوجہد کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔