مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس ۸، شیوسینا۴، اور این سی پی (شرد) ۳؍ سیٹوں پر امیدوار اتارے گی۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 11:07 AM IST | Mumbai
مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کانگریس ۸، شیوسینا۴، اور این سی پی (شرد) ۳؍ سیٹوں پر امیدوار اتارے گی۔
مہاراشٹر قانون ساز کونسل کی ۱۷؍ سیٹوں کیلئے ۱۸؍جون ۲۰۲۶ءکو انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس الیکشن کیلئے مہا وکاس اگھاڑی ( ایم وی اے ) کی تین اہم پارٹیوں کانگریس، شیو سینا ( ادھو) اور این سی پی (شرد) کے اہم لیڈروںکی میٹنگ جمعہ کو منعقد کی گئی جس میں ان سیٹوں کی تقسیم پر تبادلۂ خیال ہوا ہے اور ۱۵؍ سیٹوں پر اتفاق رائےقائم ہوا ہے۔ باقی ۲؍سیٹوں پر جلد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ ان ۱۷؍ سیٹوں میں سے ۸؍ پر کانگریس، ۴؍ سیٹوں پر شیو سینا ( ادھو) اور ۳؍ سیٹوں پر این سی پی(شرد) پوار اپنا امیدوار اتارے گی۔اس کی تصدیق مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کی ہے۔کانگریس کے ریاستی صدر کے بقول کانگریس پارٹی چندر پور، ایوت محل، بھنڈارا، امراوتی، احمد نگر(اہلیانگر)، شولاپور، عثمان آباد (دھارا شیو)،لاتور،بیڑ اور ناگپور (ضمنی الیکشن) سیٹوں پر امیدوارکھڑا کرے گی جبکہ این سی پی (شرد) پونے، تھانے اور سانگلی-ستارا اِن ۳؍سیٹوں پر الیکشن لڑے گی اور شیو سینا (اُدھو ) ۴؍ سیٹوں (رائے گڑھ، جلگاؤں، پربھنی-ہنگولی اور اورنگ آباد(چھترپتی سمبھاجی نگر))پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔ انہو ںنے مزید بتایاکہ ابھی ۲؍ سیٹوں پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہےجن میںناندیڑ اور ناسک کی سیٹ شامل ہے۔اس تعلق سے بات چیت جاری ہے اور جلد ہی اس پر بھی اتفاق ہونے کی امید ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پونے زہریلی شراب سانحہ کا بھیونڈی کنکشن، ۵؍ ہزار ۹۲۹؍ کلو میتھنال ضبط
قانون ساز کونسل کی نشستوں کی تقسیم کے سلسلے میں مہا وکاس اگھاڑی کے لیڈروں کی میٹنگ یشونت راؤ چوہان سینٹر میں منعقد کی گئی ۔ میٹنگ میں کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد ) کی ورکنگ صدر رکن پارلیمان سپریہ سلے، شیوسینا (ادھو ) کے لیڈر رکن پارلیمان انیل دیسائی، قانون ساز کونسل کے رکن امباداس دانوے، ایم ایل اے ملند نارویکر، این سی پی کی ریاستی جنرل سیکریٹری آدیتی نالاؤڑے اور سابق ایم ایل اے ملند انا موجود تھے۔
میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ حکمراں پارٹی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر پیسے کا استعمال کر رہی ہے۔ مخالف پارٹی کے کونسلروں کو خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہر ایک کو ۵-۵؍ لاکھ روپے ایڈوانس دئیے جارہے ہیں۔ ’’نہ باپ بڑا ہے نہ بھیا،پیسہ سب سے بڑا روپیہ‘‘ کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔ بر سر اقتدار اتحادی جماعتوں کے درمیان ہارس ٹریڈنگ بھی جاری ہے۔ بی جے پی کی قیادت والے اتحاد نے انتخابات کو جنہیں جمہوریت کا جشن سمجھا جاتا ہے، ہارس ٹریڈنگ کا کھیل بنادیا ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کے بلند بانگ دعوے کا مقابلہ کرنے کیلئے انتخابی میدان میں اتری ہے۔