تقریباً ۶۰؍ کلو میٹر نالوں کی صفائی کا کام کیا جا رہا ہے، ویسٹرن ر یلوے انتظامیہ نے کئی اقدامات گنوائے جبکہ کوکن ریلوے میں ۱۵؍ جون سے ۲۰؍ نومبر تک مانسون سیز ن کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 11:30 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
تقریباً ۶۰؍ کلو میٹر نالوں کی صفائی کا کام کیا جا رہا ہے، ویسٹرن ر یلوے انتظامیہ نے کئی اقدامات گنوائے جبکہ کوکن ریلوے میں ۱۵؍ جون سے ۲۰؍ نومبر تک مانسون سیز ن کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔
مانسون کی تیاریاں اور بغیر کسی رکاوٹ کے ٹرینیں چلانے کے لئے ویسٹرن ریلوے نےہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے لئے کئی اقدامات کی تفصیلات بھی گنوائی گئیں۔ دوسری جانب سینٹرل ریلوے نے کوکن ریلوے کے لئے ۱۵؍جون سے ۲۰؍نومبر تک مانسون سیزن کا نفاذ اورٹرینوں کے نظام الاوقات میںکچھ تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان دعوؤںکے برعکس موسم باراں کی پہلی تیز بارش ہی سے ریلوے کے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔
مانسون کے لئے ویسٹرن ریلوے میں کس طرح کی تیاری کی گئی ہے؟
موسم باراں کے دوران بغیر کسی رکاوٹ کے ٹرین خدمات کو یقینی بنانے کے لئے’مشن موڈ‘ میں متعدد ٹارگیٹ انجام دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ان میں پلوں، نالوں اور نکاسی آب کے راستوں کی صفائی اور نکاسی، ریلوے پٹریوں پر جمع ملبے اور کچرے کو ہٹانا، پانی کی نکاسی کے نئے نظام کی تعمیر،اضافی نکاسی کے لئے پمپ کی تنصیب اور درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔
اسی طرح ۵۸؍ کلورٹس اور پل واٹر ویز کی صفائی کو ترجیحی طور پر نشان زدکیا گیا اوران میں سے ۹۰؍فیصد کام پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح تقریباً ۶۰؍ کلومیٹر نالوں کی صفائی کا کام کیا جا رہا ہے ۔اس میں ۵۰؍کلومیٹر سے زائد کا مکمل کیا جا چکا ہے۔ سیلاب پر قابو پانے کے اقدامات میں مضافاتی حصے کے اندر غیر محفوظ مقامات پر۱۲۶؍ اعلیٰ صلاحیت والے پمپ نصب کئے گئےہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً ۱۰؍فیصد زیادہ ہے۔ سیلاب اور بارش کی نگرانی یقینی بنانے کے لئے ۴۰؍ فیلڈ گیجز اور ۶؍ آٹومیٹڈ ڈیجیٹل رین گیجز (اےآر جی ایس) اسٹریٹیجک مقامات پر نصب کئے گئے ہیں جو بارش اور پانی کی سطح کے بارے میں درست ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ ایڈوانس واٹر لیول مانیٹرنگ کےلئے ویسٹرن ریلوے نے ممبئی کے مضافاتی حصے میں اہم مقامات پر ’ایس سی اے ڈی اے‘ نظام پر مبنی پانی کی سطح پر نگاہ رکھنے کا سسٹم نصب کیا ہے جو مسلسل نگرانی اور بروقت الرٹ کو یقینی بناتے ہیں۔ ملبہ صاف کرنے کے آپریشنزکے تعلق سے ملبہ ہٹانے والی خصوصی ٹرینوں کے تقریباً۴۸۰؍ ٹرپس ملبہ، فضلہ اور مضافاتی حصے سے کھودی گئی مٹی صاف کرنے کے لئے چلائی گئی۔ یہ کام خصوصی ملبہ ویگنوں،پوکلین اورجے سی بی مشینوں اور دستی مزدوری کی مدد سے انجام دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قانون ساز کونسل کی ۱۷؍ سیٹوں میں سے ایم وی اے میں ۱۵؍ سیٹوں پر اتفاق رائے
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
ڈرونز اور فلوٹنگ کیمرہ کے استعمال پلوں اور نالوں کی صفائی کے سروے اور نگرانی کے لئے کیا جا رہا ہے۔ خصوصی سیکشن اور ڈی سیلڈنگ مشینیں بھی نشاندہی کی گئی جگہوں پرمزیدبہتر طریقے سے صفائی کے لئے لائی جا رہی ہیں۔اسی طرح مائیکروٹنلنگ اور اضافی پانی کی نکاسی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے ۱۲۰۰؍ ملی میٹر اور ۱۸۰۰؍ ملی میٹر کے قطر والے پائپوں کے ذریعے مائیکرو ٹنلنگ کا کام کیا جا رہا ہے۔ چرچ گیٹ اور ویرار سیکشن کے ساتھ ساتھ مائیکرو ٹنل پائپ کھولنے کی تعداد بڑھ کر اب ۱۹؍ ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں نکاسی ِآب کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح حساس مقامات کی ٹریک سیفٹی اور مینجمنٹ پرتوجہ دی گئی ہے۔اسی طرح تیز ہواؤں اور تیز بارش کے دوران محفوظ ٹرین آپریشن کو یقینی بنانے اور ٹریک کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے، پٹریوں کے آس پاس واقع درختوں کی کٹائی اور انہیں ہٹایا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ بی ایم سی اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ پوائی جھیل، وہار جھیل، تلسی جھیل، اور پیلہار ڈیم پر واقع حفاظتی ڈھانچوں، گائیڈ باندھوں اوراوور فلو چینلز پر بھی مشترکہ معائنہ کیا گیا اور حساس مقامات پر پیٹرولنگ عملہ، پل گارڈز اور چوکیداروں کی تعیناتی کے لئے پیٹرولنگ چارٹ جاری کئے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ زیادہ نشیبی قرار دیئے جانے والے ماٹنگا روڈ اوروسئی روڈ اسٹیشن اور ان سے متصل حصے میں خصوصی توجہ دی جارہی ہےتاکہ بارش میں پانی جمع نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: پانی بحران کے خاتمے کیلئے اعلیٰ افسران کی میٹنگ
کوکن ریلوے میں۱۵؍جون سے ۲۰؍نومبر تک مانسون سیزن کا نفاذ
کوکن ریلوے روٹ پر چلنے والی ٹرینوں کے لئے ۱۵؍ جون سے ۲۰؍نومبر تک مانسون سیزن کے نفاذکے ساتھ مانسون ٹائم ٹیبل (جو سینٹرل ریلوے سے نکلتی ہے/ختم ہوتی ہے) جاری کیا گیا ہے۔ اس روٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کومشورہ دیا گیا ہےکہ وہ مانسون سیزن میں ٹرینوں کےنظام الاوقات کوچیک کرلیں تاکہ عین وقت پر انہیں دشواری نہ ہو۔ ۲۰؍ نومبر کے بعد ٹرینیں اپنےسابقہ شیڈیول کے مطابق چلائی جائیں گی۔