Inquilab Logo Happiest Places to Work

تلنگانہ اسمبلی: والدین کو نظر انداز کرنے والوں کی تنخواہوں سے کٹوتی کا بل منظور

Updated: March 30, 2026, 8:18 PM IST | Hyderabad

تلنگانہ اسمبلی نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت ان ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے گی جو اپنے والدین کی دیکھ بھال میں ناکام ہیں۔ یہ قانون بزرگ والدین کے حقوق کے تحفظ اور خاندان میں ذمہ داری کو یقینی بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔

Revanth Reddy. Photo: INN
ریونت ریڈی۔ تصویر: آئی این این

دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ اسمبلی نے اتوار کو ایک بل منظور کیا گیا ہے جس کے تحت نجی اور سرکاری شعبے کے ان ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی جو اپنے والدین کی دیکھ بھال میں کوتاہی برتتے ہیں یا اُن کی کفالت میں ناکام ہیں۔ ۲۰۲۶ء کا تلنگانہ ایمپلائیز اکاؤنٹیبلٹی اینڈ مانیٹرنگ آف پیرنٹل سپورٹ بل ملازمین کی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ ۱۵؍ فیصد یا ۱۰؍ ہزار روپے (جو بھی کم ہو) تک کٹوتی کی اجازت دیتا ہے۔ یہ قانون ارکینِ اسمبلی (ایم ایل ایز) اور ارکینِ پارلیمنٹ (ایم پیز) کے ساتھ ساتھ نامزد اراکین اور مقامی اداروں کے منتخب نمائندوں پر بھی لاگو ہوگا۔ البتہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا قانون ساز کونسل نے اسے منظوری دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اکولہ: اَنوی مرزاپور گاؤں میں سلنڈر کیلئے قطار میں کھڑے سابق سرپنچ کی موت

دی نیوز منٹ کی خبر کے مطابق، اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ یہ بل بوڑھے والدین کو تحفظ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ مجوزہ قانون سازی کا مقصد ان لوگوں میں خوف پیدا کرنا ہے جو اپنے والدین کا احترام نہیں کرتے۔ ریڈی نے مزید کہا کہ لوگ انسانی تعلقات اور جذباتی رشتوں کو بھول چکے ہیں، اور مادی آسائشوں، مالی فائدے اور دولت کی مسلسل تلاش میں غرق ہو گئے ہیں۔ انڈین ایکسپریس نے چیف منسٹر کے حوالے سے کہا کہ ’’والدین کے حقوق کا خیر سگالی کے ذریعہ تحفظ کیا جانا چاہئے۔ لیکن بل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جب والدین کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو قانون ان کی طرف ہے۔‘‘

دی نیوز منٹ نے رپورٹ کیا کہ بل کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے ایک بیان میں، ریاستی حکومت نے کہا کہ بزرگ والدین کو نظر انداز کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ بدلتے ہوئے سماجی و اقتصادی تناظر میں خاندانی ذمہ داری کو تقویت دینے کیلئے قابل عمل اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ آئین کا (آرٹیکل ۲۱) اس بات پر زور دیتا ہے کہ زندگی کے حق میں عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی شامل ہے، بل میں مزید کہا گیا کہ والدین ہندوستانی خاندانی نظام کا ایک لازم حصہ ہیں۔ مجوزہ قانون سازی میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اس لئے یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ ان ملازمین میں قابل نفاذ اصول فراہم کئے جائیں جو اپنے والدین کو نظر انداز کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر ملازم معاشرے میں ایک رول ماڈل کے طور پر کام کرے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کمال مولا مسجد معاملہ :ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں مسلم فریق نے چیلنج کیا

دی انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ یہ بل بزرگ شہریوں کو، جن کی اولاد نے انہیں نظرانداز کیا ہو، اجازت دیتا ہے کہ وہ ضلع کلکٹر کے سامنے درخواست دائر کریں، جسے معاملات کا فیصلہ کرنے کیلئے نامزد اتھارٹی بنایا گیا ہے۔ اپنی درخواست میں، مدعی کو وجوہات بیان کرنی ہوں گی کہ وہ حصہ داری کیوں چاہتے ہیں اور اپنی آمدنی کے تمام ذرائع کی تفصیلات ظاہر کرنی ہوں گی۔

اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ بل کے مطابق، والدین اور بچوں کی سننے کے بعد ضلع کلکٹر کے پاس درخواستوں پر فیصلہ کرنے کیلئے ۶۰؍ دن ہوں گے۔ بعد ازاں، اہلکاروں کو یہ حکم جاری کرنا ہوگا کہ کتنی رقم کٹوتی کے بعد والدین کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ یہ قانون نہ صرف حقیقی والدین بلکہ گود لینے والے والدین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK