تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی نے ہارورڈ کینیڈی اسکول کے قلیل مدتی لیڈر شپ پروگرام میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کا مقصد جدید حکمرانی اور پالیسی سازی کی تربیت حاصل کرنا ہے۔
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 9:58 PM IST | Hyderabad
تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی نے ہارورڈ کینیڈی اسکول کے قلیل مدتی لیڈر شپ پروگرام میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کا مقصد جدید حکمرانی اور پالیسی سازی کی تربیت حاصل کرنا ہے۔
تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی نے عہدے پر رہتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ میں ایک خصوصی لیڈرشپ پروگرام میں داخلہ لیا ہے۔ یہ مختصر مگر جامع کورس عالمی سطح پر پالیسی، حکمرانی اور قیادت کے جدید چیلنجز کو سمجھنے پر مرکوز ہے۔ یہ پروگرام چند روزہ ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے منتخب عوامی نمائندے، سینئر بیوروکریٹس اور پالیسی ساز شریک ہوتے ہیں۔ کورس کے دوران کیس اسٹڈیز، گروپ مباحثے اور عملی سیشنز کے ذریعے شرکاء کو تنازعات کے انتظام، فیصلہ سازی اور غیر یقینی حالات میں قیادت جیسے موضوعات پر تربیت دی جاتی ہے۔ ریونت ریڈی اس پروگرام میں بطور طالبِ علم باقاعدہ شرکت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یو اے ای کے صدر کا ڈیڑھ گھنٹے کا دورۂ ہند کیوں خاص ہے؟
ریاستی حکومت کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ کی اس شمولیت کا مقصد تلنگانہ میں حکمرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا اور عالمی تجربات سے سیکھ کر پالیسی سازی میں بہتری لانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جدید دور میں ریاستوں کو عالمی معیشت، ٹیکنالوجی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے مسلسل سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ریونت ریڈی کا کہنا ہے کہ قیادت محض عہدے کا نام نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔ ان کے مطابق، ہارورڈ جیسے ادارے میں عالمی لیڈروں کے ساتھ تبادلۂ خیال تلنگانہ کے لیے نئے خیالات اور عملی تجربات لانے میں مددگار ثابت ہوگا، خاص طور پر تعلیم، روزگار اور گورننس کے شعبوں میں۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم لیڈر پر کسی بھی قسم کا حملہ ایران کے خلاف اعلان جنگ ہے: صدر پزشکیان
اہم بات یہ ہے کہ اس پروگرام کے دوران ریاستی انتظامیہ معمول کے مطابق کام کرتی رہے گی اور وزیرِ اعلیٰ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ تعلیمی شمولیت سرکاری امور میں کسی رکاوٹ کا سبب نہیں بنے گی۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز افراد کے لیے بھی سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق، اگر اس تربیت کے نتائج عملی پالیسیوں میں نظر آئے تو یہ اقدام دیگر ریاستی لیڈروں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔