Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال: تبدیلیٔ مذہب مخالف قانون، یو سی سی کے نفاذ کا اعلان، ان میں کیا ہے؟

Updated: June 28, 2026, 5:09 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ریاست میں سخت مخالفِ تبدیلیٔ مذہب قانون، یکساں سول کوڈ (UCC) اور شہریوں کا قومی رجسٹر (NRC) نافذ کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر قانونی دراندازی، جبری مذہبی تبدیلی، ’’لو جہاد‘‘ اور آبادیاتی تبدیلیاں ریاست کے سماجی ڈھانچے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

West Bengal Chief Minister Suvendu Adhikari۔Photo: INN
مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاریتصویر: آئی این این

مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ان کی حکومت ریاست میں ایک سخت مخالفِ تبدیلیٔ مذہب قانون نافذ کرے گی، جبکہ یکساں سول کوڈ (UCC) اور شہریوں کا قومی رجسٹر (NRC) بھی نافذ کیا جائے گا۔ ان تجاویز کو ریاست کے قانونی اور انتظامی نظام میں حالیہ برسوں کی اہم ترین اصلاحات میں شمار کیا جا رہا ہے اور ان پر سیاسی، قانونی اور آئینی سطح پر وسیع بحث متوقع ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا ہے کہ حکومت پیر کو مغربی بنگال اسمبلی میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پیش کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کے نفاذ کے لیے وہی قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جو گجرات، آسام اور اتراکھنڈ میں اپنایا گیا ہے۔ بی جے پی نے ۲۰۲۶ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل حکومت بننے کے چھ ماہ کے اندر یو سی سی نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم حکومت اس وعدے سے پہلے ہی قانون سازی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ککڑی کی کھیتی کیلئے وزیر کواپنی ہی وزارت سے۹۹؍ لاکھ کی سبسیڈی

وندے ماترم کی ۱۵۰؍ سالگرہ کے موقع پر رابندر سدن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادھیکاری نے کہا کہ ریاست کی بین الاقوامی سرحد سے ہونے والی دراندازی نے مذہبی تبدیلی، ’’لو جہاد‘‘ اور آبادیاتی تبدیلیوں کو فروغ دیا ہے، جو مغربی بنگال کے سماجی تانے بانے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘ اور جبری مذہبی تبدیلیوں کے خلاف سخت قوانین متعارف کرائے گی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بی جے پی کی حکمرانی والی کئی ریاستوں، جن میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور گجرات شامل ہیں، پہلے ہی مذہب تبدیل کرنے سے متعلق قوانین نافذ کر چکی ہیں۔ ان قوانین کا بنیادی مقصد جبر، دھوکہ دہی، لالچ، غلط بیانی یا صرف تبدیلیٔ مذہب کی غرض سے کی جانے والی شادیوں کے ذریعے مذہبی تبدیلیوں کو روکنا ہے۔
اگر مغربی بنگال بھی اسی طرز کا قانون نافذ کرتا ہے تو اس میں درج ذیل نکات شامل ہو سکتے ہیں:
(۱) جبر، دھمکی، دھوکہ دہی، لالچ یا صرف تبدیلیٔ مذہب کی غرض سے کی جانے والی شادی کے ذریعے مذہبی تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔
(۲) مذہب تبدیل کرنے کے خواہشمند افراد کو تبدیلی سے قبل اور بعد میں ضلعی حکام کو مطلع کرنا لازمی ہو سکتا ہے، جبکہ مذہبی رسومات ادا کرانے والے افراد پر بھی رپورٹنگ کی ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے۔
(۳) خلاف ورزی کی صورت میں قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی جا سکتی ہیں، جبکہ خواتین، نابالغوں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور معذور افراد سے متعلق مقدمات میں سخت سزائیں رکھی جا سکتی ہیں۔
(۴) بعض ریاستوں کی طرح یہ ذمہ داری بھی عائد کی جا سکتی ہے کہ تبدیلیٔ مذہب کروانے والا یا اس میں سہولت فراہم کرنے والا شخص ثابت کرے کہ تبدیلی مکمل طور پر رضاکارانہ تھی۔
(۵) مجوزہ قانون روایتی اینٹی کنورژن قوانین سے آگے بھی جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ آر ایس ایس کی تعریف کرنی ہو تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں‘‘

بی جے پی لیڈر متعدد مواقع پر مذہبی تبدیلی کو ’’لینڈ جہاد‘‘ سے جوڑ چکے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ زمین کی خرید و فروخت اور ملکیت سے متعلق معاملات بھی قانون کا حصہ بنیں۔ اسی طرح غیر قانونی دراندازی اور سرحدی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر شناخت کی تصدیق، رہائش اور امیگریشن سے متعلق شقیں بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تبدیلیٔ مذہب مخالف قانون کو یکساں سول کوڈ کے ساتھ متعارف کرانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس سے یہ ایک وسیع قانونی اصلاحاتی پیکج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔یکساں سول کوڈ کا مقصد مختلف مذاہب کے ذاتی قوانین کی جگہ شادی، طلاق، گود لینے، نان و نفقہ، وراثت اور جانشینی جیسے معاملات کے لیے ایک مشترکہ سول قانون نافذ کرنا ہے۔
حامیوں کے مطابق ایسا قانون تمام شہریوں کے لیے مساوات کو فروغ دے گا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے مذہبی آزادی اور ثقافتی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر یو سی سی نافذ کیا جاتا ہے تو اس سے متعدد موجودہ قوانین متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں:
(۱) ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۵ء 
(۲) ہندو جانشینی ایکٹ ۱۹۵۶ء 
(۳) ہندو گود لینے اور دیکھ بھال کا ایکٹ ۱۹۵۶ء
(۴) انڈین کرسچن میرج ایکٹ ۱۸۷۲ء 
(۵) انڈین ڈائیورس ایکٹ ۱۸۶۹ء
(۶) پارسی میرج اینڈ ڈائیورس ایکٹ ۱۹۳۶ء
(۷) مسلم پرسنل لا کے تحت شادی، طلاق اور وراثت سے متعلق قوانین
مجوزہ فریم ورک کے تحت شادی کی رجسٹریشن، کم از کم عمر، رضامندی، لائیو اِن ریلیشن شپ، طلاق، بچوں کی تحویل، نان و نفقہ اور وراثت کے قوانین تمام شہریوں کے لیے یکساں بنائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح مذہبی وابستگی سے قطع نظر تمام شہریوں کو قانونی طور پر گود لینے کے مساوی حقوق فراہم کیے جا سکتے ہیں، جبکہ وصیت، جانشینی اور جائیداد کی تقسیم کے لیے بھی مشترکہ اصول متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یتی نرسنگھانند کی ’غزہ نسل کشی اور ہندوستانی مسلمانوں‘ کے بیان پر انیل یادو کی حمایت

سیاسی مبصرین کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً ۲۷؍ فیصد مسلم آبادی ہے، اس لیے اگر ریاست میں یو سی سی نافذ ہوتا ہے تو یہ ملک کی ان بڑی ریاستوں میں شامل ہوگی جہاں اتنی بڑی مسلم آبادی کے باوجود یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گا، جس سے اس اقدام کی سیاسی اور قانونی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ دوسری جانب این آر سی کے نفاذ کے اعلان نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ شہریت، دراندازی اور سرحدی سلامتی کے معاملات پہلے ہی سیاسی سطح پر حساس موضوعات رہے ہیں۔ مجوزہ قوانین کی حتمی نوعیت اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مسودوں سے واضح ہوگی، تاہم اگر یہ تجاویز موجودہ شکل میں منظور ہو جاتی ہیں تو مغربی بنگال میں مذہبی تبدیلی، شادی، طلاق، وراثت، شہریت اور خاندانی قوانین کے نظام میں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی قانونی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK