گنیش اتسو کے دوران ڈی جے کے شور اور لیزر لائٹس کے بے تحاشا استعمال کے خلاف مہم چھیڑنے والے وِدیّا نند باپٹ کے انتخابی میدان میں اترنے کی قیاس آرائیاں ہیں۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 11:54 AM IST | Agency | Pune
گنیش اتسو کے دوران ڈی جے کے شور اور لیزر لائٹس کے بے تحاشا استعمال کے خلاف مہم چھیڑنے والے وِدیّا نند باپٹ کے انتخابی میدان میں اترنے کی قیاس آرائیاں ہیں۔
گنیش اتسو کے دوران ڈی جے کے شور اور لیزر لائٹس کے بے تحاشا استعمال کے خلاف مہم چھیڑنے والے وِدیّا نند باپٹ کے انتخابی میدان میں اترنے کی قیاس آرائیاں ہیں۔ ایڈوکیٹ اسیم سرودے نے ودیانند باپٹ کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے عوام سے براہِ راست سوال کیا: ’’کیا ودیانند باپٹ کو گریجویٹ ووٹروں کے اسمبلی حلقے سے الیکشن لڑنا چاہیے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: دھولیہ: بارانِ رحمت کے نزول کیلئے اردو اسکولوں میں دعاؤں کا اہتمام
سرودے کے اس ایک سوال نے پونے سمیت مغربی مہاراشٹر کے سیاسی حلقوں میں بھی تجسس پیدا کر دیا ہے۔ اس کے بعد گریجویٹ حلقے کے انتخاب میں ایک غیر متوقع ’سرپرائز انٹری‘ کے امکانات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ سرودے نے اپنی پوسٹ میںباپٹ کے کام کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے لکھا:’’میرے ساتھ کھڑے اس شخص کا اب زیادہ تعارف کرانے کی ضرورت نہیں رہی۔ صوتی آلودگی کے عفریت کے خلاف بے خوفی سے کھڑے ہونے والے ودیانند باپٹ آج بہت سے مسائل کو آواز دینے والے حقیقی ہیرو بن چکے ہیں۔ تہواروں کی بگڑتی ہوئی شکل اور ان میں ہونے والی نامناسب سرگرمیوں کو جس ہمت کے ساتھ باپٹ نے عوام کے سامنے رکھا، اس نے انہیں مقبول بنادیا ہے۔‘‘