انتظامیہ نے پرچے کو لیک ہونے سے بچانے کیلئے مہاراشٹر کے بجائے آگرہ کی ایک پریس میں چھپنے کیلئے بھیجا تھا لیکن پریس کے ملازم نے مافیا کے کہنے پر اسے لیک کر دیا۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 11:03 AM IST | Bhiwandi
انتظامیہ نے پرچے کو لیک ہونے سے بچانے کیلئے مہاراشٹر کے بجائے آگرہ کی ایک پریس میں چھپنے کیلئے بھیجا تھا لیکن پریس کے ملازم نے مافیا کے کہنے پر اسے لیک کر دیا۔
نیٹ پیپر لیک کے بعد ٹی ای ٹی کا پرچہ بھی لیک ہوا جس نے ملک بھر میں اور بھی ہلچل مچا دی، یاد رہے کہ اکیلے مہاراشٹر کے ۶؍ لاکھ سے زیادہ اساتذہ کا مستقبل اس ٹی ای ٹی امتحان پر منحصر تھا۔ پرچہ لیک ہونے کی وجہ سے انہیں دوبارہ امتحان کی تیاری کرنی پڑے گی۔حال ہی میں پولیس کی تحقیق کے دوران اس پرچے کے لیک ہونے کی پوری کہانی سامنے آئی ہے۔ اس میں معلوم ہوا ہے کہ پرنٹنگ ہائوس سے جو پرچہ ۸؍ ہزار روپے میں باہر نکالا گیا تھا وہ دلالوں کے ہاتھ ۸۰؍ ہزا ر روپے میں فروخت کیا گیا۔ اس کے بعد دلالوں نے اپنے اپنے طور پر دام بڑھا کر اسےفروخت کیا۔ گاہک یعنی پرچہ دینے والے امیدواروں تک پہنچنے کے بعد اس کی قیمت آسمان پر تھی۔ یاد رہے لیک ہونے والے پرچے کا سراغ سب سے پہلے بھیونڈی پولیس کے ہاتھ لگا تھا جبکہ اسے لیک اترپردیش کے آگرہ سے کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: عمر خالد کو ہفتے میں دو بار اہل خانہ سے ویڈیو کال کی اجازت
بھیونڈی پولیس کی تحقیقات کے مطابق اس پورے معاملے کا کلیدی ملزم برجیندر گپتا ہے جو اس وقت فرار ہے۔ گپتا کا تعلق بہار سے ہے ۔ جبکہ ٹی ای ٹی کے پرچےآگرہ کے ایک پرنٹنگ ہائوس میں چھپ رہے تھے جہاں نریش کمار نامی ملزم کام کرتا تھا جس نے برجیندر گپتا کے اصرار پر اسے یہ پرچہ فراہم کیا تھا۔ اس کے عوض گپتا نے نریش کمار کو ۸؍ ہزار روپے دیئے تھے۔ اس کے بعد، برجیندر گپتا نے مختلف ریاستوں میں موجود اپنے ایجنٹوں اور دلالوں کی زنجیر کا استعمال کرتے ہوئے، ابتدا میں اس پرچے کو ۸۰؍ ہزار روپے میں فروخت کیا۔ جیسے جیسے یہ پرچہ دوسروں کے ہاتھ میں گیا ویسے ویسے اس کی قیمت اور بڑھنے لگی۔ ہر دلال نے اس میں اپنا منافع شامل کیا اور اس کی قیمت بڑھاتا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ آگرہ سے بھیونڈی آنے تک پرچے کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمین سے سوالیہ پرچے کی اصل کاپی قبضے میں لے لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گجرات: داڑھی رکھنا، برقع پہننا، بول چال میں عربی الفاظ اور اعتکاف ’بنیاد پرستی‘
اس پورے ریکیٹ کا سرغنہ برجیندر گپتا ہی ہے جو فی الحال مفرور ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق برجیندر گپتا انتہائی چالاکی اور منصوبہ بند طریقے سے کام کرتا تھا۔ وہ پہلے ان جگہوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتا جہاں مختلف امتحانات کے سوالیہ پرچے چھاپے جاتے۔ اسکے بعد وہ وہاں موجود ملازمین کو بھاری رقم کا لالچ دے کر جال میں پھانس لیتا۔ جب کسی بھی ریاست کا سوالیہ پرچہ چھپنے کیلئے آتا تو اسے ملازمین کی مدد سے چوری کر کے متعلقہ ریاستوں میں ایجنٹوں کے ذریعے لاکھوں روپے میں فروخت کرتا۔ ۲۸؍ جون کو ہونے والے مہاراشٹر ٹی ای ٹی امتحان کا سوالیہ پرچہ پرنٹنگ کیلئے اترپردیش کے شہر آگرہ میں واقع پرنٹنگ ہاؤس مہیم پترم پرائیویٹ لیمیٹیڈ بھیجا گیا تھا۔ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود وہاں کے ایک ملازم نریش کمار مظہر عرف نکی نے سیکوریٹی نظام میں خامی تلاش کی اور سوالیہ پرچہ نکال لیا۔ ذرائع کے مطابق نریش کمار نے دیکھا کہ پرنٹنگ ہاؤس سے نکلتے وقت صرف کپڑوں کی سرسری تلاشی لی جاتی ہے۔ اس نے اس پرچے کو اپنے جوتے میں چھپالیا۔ سیکوریٹی نے اس کے کپڑوں کی تلاشی تو لی لیکن جوتے اتار کر تلاشی نہیں لی۔ چونکہ ٹی ای ٹی پیپر۱؍ اور پیپر۲؍کے دو سیٹ چھاپے گئے تھے، اسلئے امتحان کے دن کسی ایک سیٹ کو منتخب کرنے کا اصول تھا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نریش کمار نے مسلسل تین دن تک سیکوریٹی کو بیوقوف بنایا اور پرنٹنگ ہاؤس سے چاروں سیٹ نکال کر کلیدی ملزم کے ساتھی کے پاس لے آیا۔ ریاست بھر میں ٹی ای ٹی ۲۰۲۶ء امتحان کیلئے تقریباً ۶؍ لاکھ امیدواروں اور ایک ہزار ۲۸؍ امتحانی مراکز کا انتظام کیا گیا تھا۔ سوالیہ پرچہ کی رازداری کو برقرار رکھنے کیلئے امتحانی کونسل نے پرچوں کو چھپنے کیلئے ریاست سے باہر آگرہ کے پرنٹنگ ہائوس میں بھیجا تھا لیکن یہ پرچہ وہاں سے لیک ہو کر بھیونڈی تک پہنچا۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے لیکن اس پیپر لیک نے امتحانات کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔