• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تھانیا ناتھن سی؛ کیرالا کی عدالتی تاریخ میں پہلی نابینا خاتون جج کا انتخاب

Updated: February 09, 2026, 9:56 PM IST | Thiruvananthapuram

کیرالا کی وکیل تھانیا ناتھن سی نے جوڈیشل سروس امتحان میں ’’معذوری‘‘ کے زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ مکمل طور پر نابینا ہونے کے باوجود وہ سول جج (جونیئر ڈویژن) کے طور پر تقرر پانے والی کیرالا کی پہلی بصارت سے محروم خاتون ہوں گی، جو عدالتی شمولیت اور اہلیت پر مبنی انتخاب کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

کیرالا کی عدالتی تاریخ ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں تھانیا ناتھن سی کی بطور سول جج (جونیئر ڈویژن) تقرری ریاست کے عدالتی نظام میں ایک نئی مثال قائم کرے گی۔ وہ کیرالا کی تاریخ میں پہلی ایسی خاتون ہوں گی جو مکمل نابینا ہونے کے باوجود عدالتی منصب پر فائز ہوں گی۔ تھانیا ناتھن نے حال ہی میں منعقدہ کیرالا جوڈیشل سروس امتحان میں معذوری کے زمرے میں میرٹ لسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ امتحان ریاستی عدلیہ میں سول جج (جونیئر ڈویژن) کے عہدوں پر تقرری کیلئے منعقد کیا گیا تھا۔ ان کی کامیابی نے عدالتی حلقوں میں اہلیت، مساوات اور شمولیت کے اصولوں پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اسی زمرے میں جویسن ساجن، جو سیریبرل پالسی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ دونوں امیدواروں کی کامیابی کو اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ عدالتی خدمات میں انتخاب کا معیار جسمانی صلاحیت نہیں بلکہ علمی قابلیت، قانونی فہم اور پیشہ ورانہ اہلیت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کشمیری صحافی عرفان معراج کی بلا مقدمہ حراست غیر قانونی قرار دی جائے‘‘

قانونی ماہرین کے مطابق، تھانیا ناتھن کی تقرری محض ایک انفرادی کامیابی نہیں بلکہ کیرالا کے عدالتی نظام کی ساخت میں ایک ادارہ جاتی پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتیں صرف انصاف فراہم کرنے کا ادارہ نہیں بلکہ آئینی اقدار،خصوصاً مساوات اور وقار، عملی مثال بھی ہوتی ہیں، اور یہ تقرری اسی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔ تھانیا ناتھن نے اپنی قانونی تعلیم اور وکالت کے سفر میں ایسے تعلیمی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کیا جو بصارت سے محروم افراد کے لیے عام طور پر رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے نہ صرف قانون کی تعلیم مکمل کی بلکہ مسابقتی جوڈیشل امتحان میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ عدالتی اور سماجی حلقوں میں اس کامیابی کو معذور خواتین کی نمائندگی کے تناظر میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تھانیا ناتھن کی تقرری آئندہ برسوں میں عدالتی اور سرکاری خدمات میں معذور افراد کی شمولیت کے لیے ایک مضبوط نظیر بن سکتی ہے، جس سے مواقع کی برابری کو عملی شکل ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی میں بی جے پی حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر جشن

یہ پیش رفت اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ جدید عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی، معاون نظام اور ادارہ جاتی سہولیات کے ذریعے ایسے پیشہ ور افراد کو مؤثر طریقے سے شامل کیا جا سکتا ہے، جو ماضی میں حاشیے پر رکھے جاتے تھے۔ تھانیا ناتھن سی کی تقرری کے ساتھ کیرالا کی عدلیہ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں تنوع محض نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے،اور یہی کسی بھی جمہوری عدالتی نظام کی اصل طاقت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK