ایسے معاملات کی شہری سطح پر تحقیقات کرائم برانچ اور ریاستی سطح پر سی آئی ڈی کرے گی۔ نئے رہنما خطوط کے مطابق پولیس حراست میں مرنے والے کا پوسٹ مارٹم ۳؍ ماہر ڈاکٹروں کا پینل کرے گا ۔ مہلوک کے اہل خانہ کو دیئے جانے والے معاوضہ میں بھی اضافہ کردیا گیا۔
حراستی موت سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج کو بغیر کسی چھیڑچھاڑ کے محفوظ کرنا بھی ضروری ہوگا-تصویر:آئی این این
ریاستی محکمہ داخلہ نے پولیس حراست میں اموات کے واقعات کو روکنے کیلئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک ’ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر( ایس او پی )‘ جاری کیا ہے ۔اس میں پولیس کے ذریعہ کئے جانے والے تشدد بھی شامل ہیں اور اس کی تفتیش کیلئے محکمہ داخلہ نے شہری سطح پر کرائم برانچ اور ریاستی سطح پرکرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ( سی آئی ڈی) کوتحقیقات کی ذمہ داری سونپی ہے ۔حراستی موت کے معاملات کے ضمن میں جو نئے قواعد بنائے گئے ہیں ، اس کے مطابق کسی بھی ملزم کی حراستی موت کے بعد کم از کم ۳؍ ماہر ڈاکٹروں کا پینل پوسٹ مارٹم انجام دے گا اور شفافیت کے ساتھ اس کی رپورٹ ترتیب دے گا ۔ اس کے علاوہ پولیس حراست میں ملزم کی موت کا پنچنامہ کرتے وقت آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ لازمی ہوگی ۔ تاہم بائیولوجیکل اورکیمیائی نمونے لئے جائیں گے اور ان کی جانچ فورینسک لیباریٹری میں کرائی جائے گی ۔جاری کردہ ایس او پی کے مطابق ان تمام کارروائیوں کو شفافیت کے ساتھ انجام دینے کیلئے متعلقہ پولیس اسٹیشن یا جیل کا انچارج تمام ثبوتوں کو اکٹھا کرنے کا ذمہ دار ہوگا ۔
اس ضمن میں ’ایس او پی‘ پر سختی سے عمل کرنے کے لئے متعلقہ پولیس اسٹیشن یا جیل کا انچارج ہی کسی بھی قسم کے شواہد سے چھیڑ چھاڑ کئے جانے کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا ۔افسر کو مہلوک کی شناخت کرنا اور واقعہ کو فوری طور پر کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز میں حادثاتی موت کا کیس درج کرنا ہوگا ۔یہی نہیں پولیس اسٹیشن اور جیل کے انچارج کو حراستی موت سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج کو بغیر کسی چھیڑچھاڑ کے محفوظ کرنا بھی ضروری ہوگا ۔
نئے ضوابط کے مطابق عدالتوں کے اس ضمن میں جاری کردہ ہدایتوں پر عمل کرتے ہوئے ایسی ہارڈ ڈیسک اور سرور سسٹم رکھنا لازمی ہوگا جس میں حراستی موت سے متعلق تمام ریکارڈکو کم از کم ۱۸؍ماہ تک محفوظ رکھا جاسکے ۔ حراستی موت سے متعلق جو رہنما اصول بنائے گئے ہیں،اس میں اس بات کو بھی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ گرفتاری کے فوراً بعد طبی معائنہ کیا جائے اور ہر ملزم کا ۴۸؍ گھنٹوں میں طبی معائنہ کرتے رہنے کے علاوہ پولیس لاک اپ یا جیل میں ملزم کو قید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا لازمی ہوگا کہ جس سے کوئی بھی ملزم خود کشی نہ کر سکے ۔ساتھ ہی پولیس تشدد کے سبب زخمی ہونے پر اسے فوری طبی مدد فراہم کرنا بھی جیل اور پولیس اسٹیشن انچارج کی ہی ذمہ داری ہوگی ۔ اس کے علاوہ جاری کردہ ایس او پی اور بنائے گئے رہنما خطوط میں شہری سظح پر کرائم برانچ اور ریاستی سطح پر سی آئی ڈی تحقیقاتی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ متوفی سے متعلق تمام ریکارڈنہ صرف اپنی تحویل میں لیں بلکہ گرفتاری سے لے کر اس کی موت ہونے تک اس سے ملنے جلنے والوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے علاوہ جیل یا لاک اپ میں موجود دیگر گواہوں یا ڈیوٹی پرموجودافسر اور اہلکارگواہوں کا بیان شفافیت کے ساتھ قلمبند کریں ۔ اس سلسلہ میں پولیس تشدد کے سبب ہونے والی حراستی اموات میں ملوث پولیس افسر اور اہلکاروں کا موبائل فون ضبط کریں اور ملزم کی حراستی موت کے وقت ان کی موجودگی کا ریکارڈ بھی یقینی طور پر محفوظ کریں ۔بعد ازیں اب تک پولیس تشدد اور حراستی موت ہونے پر مہلوک کے اہل خانہ کو بطور معاوضہ ایک لاکھ روپے دیا جاتا تھا وہیں حکومت نےاس رقم میں اضافہ کرتے ہوئے اسے ڈیڑھ لاکھ روپے کر دیا گیا ہے ۔