• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ نے ایران میں ۶؍ ہزار اسٹارلنک ٹرمینلز خفیہ طور پر بھیجے: وال اسٹریٹ جرنل

Updated: February 13, 2026, 10:15 PM IST | New York

’دی وال اسٹریٹ جنرل‘کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران میں حالیہ احتجاج کے بعد خفیہ طور پر۶؍ ہزار اسٹارلنک سیٹیلائٹ انٹرنیٹ ٹرمینلز پہنچائے۔ یہ اقدام اُس وقت کیا گیا جب ایرانی حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر کے عوامی رابطوں کو محدود کر دیا تھا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

امریکہ نے جنوری میں ملک گیر احتجاج کے بعد خفیہ طور پر تقریباً۶؍ ہزار اسٹارلنک سیٹیلائٹ انٹرنیٹ ٹرمینلز ایران اسمگل کئے، یہ رپورٹ’’ دی وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے جمعرات کو حکام کے حوالے سے شائع کی۔ یہ کارروائی پہلی بار تھی کہ واشنگٹن نے براہِ راست اسٹارلنک سسٹمز کی ایران منتقلی میں سہولت فراہم کی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ترسیل اُس وقت کی گئی جب ایرانی حکام نے معاشی بدحالی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث ہونے والے احتجاج کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سخت بندش نافذ کر دی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز کر نے کا خدشہ

حکام نے بتایا کہ امریکی محکمۂ خارجہ نے حالیہ مہینوں میں تقریباً ۷؍ ہزارٹرمینلز خریدے، جن میں سے زیادہ تر جنوری میں حاصل کئے گئے۔ یہ فیصلہ اعلیٰ حکام کی جانب سے ایران میں جاری انٹرنیٹ آزادی کے پروگراموں کے فنڈز کو موڑ کر سیٹیلائٹ سسٹمز کی خریداری کیلئے استعمال کرنے کے بعد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ان ترسیلات کے بارے میں آگاہی تھی، تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا انہوں نے ذاتی طور پر اس منصوبے کی منظوری دی تھی یا نہیں۔ وہائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تہران نے واشنگٹن پر احتجاج کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے، جس کی امریکہ تردید کرتا ہے۔ ٹرمپ نے عوامی طور پر ایرانیوں کو احتجاج جاری رکھنے کی ترغیب دی تھی اور بدامنی کے دوران کہا تھا کہ ’مدد راستے میں ہے۔‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیتن یاہو کو تنبیہ: ایران سے جوہری بات چیت جاری رہے، وینس کا انتباہ

ایران میں اسٹارلنک ٹرمینلز رکھنا غیر قانونی ہے اور اس پر کئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود تجزیہ کاروں اور کارکنوں کے اندازوں کے مطابق ہزاروں ایرانی ریاستی فائر وال کو عبور کرنے اور بیرونی معلومات تک رسائی برقرار رکھنے کیلئے یہ سسٹمز استعمال کر رہے ہیں۔ محکمۂ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۲ء کے احتجاج کے دوران تقریباً۳؍ کروڑ ایرانیوں نے امریکہ کی مالی معاونت سے چلنے والی وی پی این سروسیز استعمال کیں۔ گزشتہ جون میں ۱۲؍ روزہ کشیدگی کے دوران، جب امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کیا، حکام کے اندازے کے مطابق تقریباً۲۰؍ فیصد ایرانی امریکی حمایت یافتہ وی پی اینز کے ذریعے محدود آن لائن رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ محکمۂ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ادارہ ایرانی عوام کو رابطے میں رکھنے کیلئے مختلف ٹیکنالوجیز کی حمایت کرتا ہے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان صلاحیتوں کو مزید وسعت دینے پر کام کر رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK